ملتان ( خصوصی رپورٹر ) کوٹ رب نواز میں مبینہ منشیات فروش اسلم کے گھر سی این ایف کے چھاپے، ہیروئن و چرس برآمدگی کے کیس میں ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اسلامیات کے لیکچرر ڈاکٹر محمد فرمان علی کی گرفتاری پر ان کی خدمات فوری طور پر ایچ ای ڈی کو واپس کردی گئی ہیں۔ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فرمان علی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) حکومت پنجاب کے ایک مستقل ملازم ہیں جو ڈیپوٹیشن پر یونیورسٹی میں فرائض سر انجام دے رہے تھے۔یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ڈاکٹر ریحان محمد کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق لیکچرر ڈاکٹر فرمان علی کو پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس (PCNF) نے گرفتار کر لیا ہےچونکہ ملزم ملازم ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مستقل ملازم ہیں، اس لیے ایمرسن یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا براہِ راست قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔اس صورتحال کے پیش نظر وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان نے فوری طور پر ان کی خدمات (Repatriation of Services) کو محکمہ ہائر ایجوکیشن حکومت پنجاب، لاہور کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈاکٹر فرمان علی کو 4 اکتوبر 2026 سے ایمرسن یونیورسٹی کے فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مزید احکامات اور ضابطے کی کارروائی کے لیے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لاہور کو رپورٹ کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کوٹ رب نواز میں سی این ایف نے چھاپہ مار کر اسلم کے گھر سے ہیروئن اور چرس کی بھاری مقدار برآمد کرکے مقدمہ درج کیا تھا جس میں اسلم کے داماد ڈاکٹر فرمان علی لیکچرر شعبہ اسلامیات ایمرسن یونیورسٹی ملتان( ایچ ای ڈی ملازم ) بھی نامزد ہیں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چھاپے کے دوران فورس کے اہلکاروں پر حملہ کیا اور اسلحہ چھیننے کی کوشش کی جس پر ان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی دفعات عائد کی گئی ہیں ۔






