ملتان ( سید قلب حسن)حکومت پنجاب کی جانب سے غریب اور پسماندہ آبادیوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے واٹر فلٹر پلانٹس آج انتظامی غفلت، ناقص نگرانی اور عدم دلچسپی کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ عوامی فلاح کے نام پر شروع کیے گئے یہ منصوبے اب اپنی افادیت کھو چکے ہیں، جبکہ شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔روزنامہ قوم کی مختلف علاقوں میں کی گئی زمینی معلومات کے مطابق متعدد سرکاری واٹر فلٹر پلانٹس مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ کئی مقامات پر پلانٹس کے دروازوں پر تالے لٹک رہے ہیں، کہیں پانی کی ٹونٹیاں چوری ہو چکی ہیں، کہیں فلٹریشن مشینری ناکارہ پڑی ہےجبکہ بعض فلٹر پلانٹس کے اندر چارپائیاں، گھریلو سامان اور دیگر اشیاء رکھ کر انہیں آرام گاہ یا سٹور روم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کئی جگہوں پر پلانٹس کے باہر کپڑے اور دیگر سامان لٹکا ہوا نظر آتا ہےجو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔اس کے برعکس مخیر حضرات کی جانب سے مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں نصب کیے گئے واٹر فلٹر پلانٹس پوری طرح فعال ہیں اور روزانہ ہزاروں شہریوں کو صاف اور ٹھنڈا پانی فراہم کر رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ جہاں حکومت ناکام نظر آتی ہے، وہاں اہلِ خیر اپنی مدد آپ کے تحت عوام کی بنیادی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کے منصوبوں کی دیکھ بھال ہی نہیں کرنی تھی تو پھر یہ منصوبے لگانے کا مقصد کیا تھا شہریوں کا کہنا ہے گورنمنٹ یہ واٹر فلٹریشن پلانٹس مخیر حضرات کے حوالے کر دے تاکہ عوام کو پینے کے لیے صاف پانی مل سکے گورنمنٹ ان منصوبوں کی بندش کا کوئی احتساب ہوگا اور کیا متعلقہ افسران سے یہ پوچھا جائے گا کہ عوام کے ٹیکس سے لگائے گئے فلٹر پلانٹس آخر کس کی غفلت کی نذر ہوئےماہرین صحت کے مطابق صاف پانی کی عدم دستیابی ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور معدے کی متعدد بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے میں سرکاری واٹر فلٹر پلانٹس کی بندش صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بھی ہے۔شہریوں نےاعلیٰ پنجاب، متعلقہ انتظامیہ اور ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ صوبے بھر میں نصب تمام سرکاری واٹر فلٹر پلانٹس کا فوری آڈٹ کرایا جائے، ناکارہ پلانٹس کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے، مرمت کے لیے مختص فنڈز کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔غریب عوام کو صاف پانی فراہم کرنا حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر عوامی فلاح کے منصوبے صرف افتتاحی تختیوں تک محدود رہ جائیں اور عملی طور پر بند پڑے ہوں تو یہ نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔







