ملتان چیمبر میں ممبر شپ تنازع شدت اختیار کر گیا، تاجر و صنعتکار برادری میں تشویش

ملتان (جنرل رپورٹر)ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں نئی ممبرشپ اور تجدیدِ رکنیت کے خواہش مند کاروباری افراد کی درخواستیں، دستاویزات اور فیسیں وصول نہ کرنے اور باقاعدہ رسیدیں جاری نہ کیے جانے کے الزامات سامنے آنے پر تاجر و صنعت کار برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک منتخب رکن نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکرٹری جنرل غیر جانبدار انتظامی افسر کے بجائے ایک مخصوص گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ممبرشپ کے عمل میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق متعدد کاروباری افراد مکمل دستاویزات اور فیسوں کے پے آرڈرز کے ساتھ چیمبر آفس پہنچ رہے ہیں تاہم نہ ان کی درخواستیں باقاعدہ وصول کی جا رہی ہیں نہ ادائیگیاں قبول کی جا رہی ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تحریری رسید جاری کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اس طرزِ عمل کا مقصد موجودہ گروپ کی چیمبر پر اجارہ داری برقرار رکھنا اور نئے تاجروں و صنعت کاروں کی شمولیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے تاکہ آئندہ انتخابات اور چیمبر کے معاملات پر مخصوص حلقے کا اثر و رسوخ قائم رہے۔ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نے مطالبہ کیا کہ تمام اہل درخواست گزاروں کی دستاویزات اور ادائیگیاں فوری طور پر وصول کرکے انہیں باقاعدہ رسیدیں جاری کی جائیں اور زیر التوا ممبرشپ درخواستوں کو بلاامتیاز نمٹایا جائے بصورت دیگر یہ معاملہ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز اور دیگر متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔دوسری جانب اس حوالے سے جب ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری جنرل محمد شفیق سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ابتدائی طور پر کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد اپنا مؤقف دیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ رابطہ کرکے بتایا کہ انہیں اس معاملے پر کوئی مؤقف دینے سے منع کر دیا گیا ہے لہٰذا وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں