ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں طلبہ کی یونیفارم پالیسی ختم کرنے کے فیصلے نے تعلیمی، انتظامی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رجسٹرار آفس ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی جانب سے 21 اگست 2026 کو جاری کردہ مراسلہ نمبر EUM-Admin/R/Est./153 میں تمام سربراہان شعبہ جات کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وائس چانسلر کی منظوری سے Fall Semester 2026 اور اس کے بعد طلبہ کو یونیفارم سے عمومی استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ مراسلے میں اگرچہ طلبہ کو صاف، ستھرا، مہذب اور مناسب لباس پہننے کی ہدایت کی گئی ہے اور نامناسب یا غیر مہذب لباس کی ممانعت برقرار رکھی گئی ہے، تاہم یونیفارم ختم کرنے کے فیصلے پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ ایک ہی جامعہ میں انتظامی سربراہ کی تبدیلی کے ساتھ طلبہ سے متعلق بنیادی پالیسیاں آخر کیوں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں یونیفارم کوئی محض لباس نہیں بلکہ طلبہ کے درمیان ظاہری مساوات، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی شناخت کا ایک ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ ایک وائس چانسلر کے دور میں یونیفارم نافذ کی جاتی ہے، طلبہ اور والدین اس فیصلے کو قبول کرتے ہوئے یونیفارم، جوتے اور دیگر ضروری اشیا خریدنے پر رقم خرچ کرتے ہیںلیکن کچھ عرصے بعد نئی انتظامیہ آتے ہی وہی پالیسی ختم کر دی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے یہ بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا یونیورسٹی کی پالیسیاں مستقل ادارہ جاتی ضرورت اور جامع مشاورت کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں یا ہر نئے وائس چانسلر کے ساتھ پالیسیوں کی سمت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسی پالیسیوں کا بار بار نفاذ اور خاتمہ طلبہ اور ان کے والدین کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتا ہے اور یونیورسٹی کے انتظامی فیصلوں کے تسلسل پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ یونیفارم ختم کرنے کے فیصلے پر سب سے اہم تنقید اس پہلو سے سامنے آ رہی ہے کہ یونیفارم امیر اور غریب طالب علم کے درمیان ظاہری معاشی فرق کو بڑی حد تک چھپا دیتی ہے۔ یونیفارم پہننے کی صورت میں ایک متوسط یا کم آمدنی والے خاندان کا طالب علم بھی اسی لباس میں نظر آتا ہے جس میں نسبتاً خوشحال گھرانے کا طالب علم ہوتا ہے، یوں طلبہ کے درمیان لباس کی بنیاد پر مالی حیثیت کا اظہار محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہر طالب علم اپنی مرضی کے لباس میں یونیورسٹی آئے گا تو مہنگے برانڈڈ کپڑے، قیمتی جوتے، گھڑیاں اور دیگر فیشن آئٹمز رکھنے والے طلبہ اور محدود مالی وسائل رکھنے والے طلبہ کے درمیان واضح ظاہری فرق پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ غریب گھرانے کا بچہ اگر روزانہ اعلیٰ معیار یا مہنگے لباس کا انتظام نہ کر سکے تو اسے اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں احساسِ کمتری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد طلبہ کو تعلیم، تحقیق، کردار سازی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں لباس اور فیشن کے غیر ضروری مقابلے میں ڈالنا۔ یونیفارم کی موجودگی میں کم از کم لباس کی بنیاد پر طبقاتی فرق اور باہمی مسابقت نسبتاً کم رہتی ہے، جبکہ آزاد ڈریس کوڈ میں بعض طلبہ کے لیے روزانہ مختلف اور بہتر لباس پہننے کا سماجی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک طالب علم جس کے والدین مالی طور پر مستحکم ہیں وہ مختلف برانڈز اور مہنگے ملبوسات کے ساتھ روزانہ یونیورسٹی آسکتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے خاندان کا طالب علم محدود اور نسبتاً کم قیمت لباس پر گزارا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس سے دونوں کے درمیان معاشی فرق تعلیمی ماحول میں بھی نمایاں ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے مراسلے میں طلبہ کے لیے neat, clean, decent and appropriate dress code” برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، مگر اس معیار کے عملی نفاذ کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ یونیفارم ختم ہونے کے بعد مناسب، مہذب اور نامناسب لباس کا تعین کس معیار کے تحت ہوگا، مختلف شعبہ جات اور افسران اس معیار کی تشریح کیسے کریں گے اور اگر کسی طالب علم کے لباس پر اعتراض ہو تو اس کا فیصلہ کون کرے گا، یہ تمام امور واضح پالیسی کے متقاضی ہیں۔ اگر ڈریس کوڈ کی تشریح مختلف انداز میں ہونے لگی تو طلبہ کے لیے مزید انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یونیفارم ختم کرنے کے فیصلے کا ایک معاشی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر یونیفارم ختم ہونے سے طلبہ کو مخصوص لباس خریدنے سے آزادی ملتی ہے، لیکن عملی طور پر روزانہ یونیورسٹی جانے کے لیے مناسب لباس، جوتے اور موسم کے مطابق کپڑوں کی متعدد اقسام درکار ہو سکتی ہیں، جو بعض کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتی ہیں۔ یونیفارم کی صورت میں چند مخصوص جوڑیوں سے تعلیمی سال کا لباس کا معاملہ نسبتاً آسانی سے چلایا جا سکتا ہے، جبکہ آزاد ڈریس کوڈ میں طلبہ پر سماجی طور پر بہتر لباس رکھنے کا دباؤ بڑھنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے ایک اور اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یونیفارم پالیسی پہلے غلط، غیر ضروری یا غیر مؤثر تھی تو اسے پہلے نافذ کیوں کیا گیا اور اگر اس کے نفاذ کے وقت اسے ادارے کے نظم و ضبط اور طلبہ کے مفاد میں ضروری سمجھا گیا تھا تو اب اس کے خاتمے کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یونیفارم کے خاتمے سے قبل طلبہ، والدین، اساتذہ اور متعلقہ انتظامی فورمز سے مشاورت کی گئی؟ کیا اس حوالے سے کوئی باقاعدہ جائزہ یا سروے کیا گیا؟ اور کیا یونیورسٹی نے اس پالیسی کے مثبت و منفی اثرات کا تجزیہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دیا جانا ضروری ہے۔تعلیمی حلقوں نے وائس چانسلر کی پالیسی سازی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کسی ایک فرد کی ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق چلنے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ تعلیمی نظام ہے، جہاں پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی مشاورت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک وائس چانسلر یونیفارم نافذ کرے، طلبہ اس پر رقم خرچ کریں، پھر دوسرا وائس چانسلر آ کر اسے ختم کر دے اور مستقبل میں کوئی تیسرا انتظامی سربراہ دوبارہ یونیفارم نافذ کر دے تو اس کا نقصان بالآخر طلبہ اور والدین ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی پالیسیوں کو شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی سطح پر طے کیا جائے اور ان میں غیر ضروری تبدیلیوں سے گریز کیا جائے۔ یونیفارم کے حامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ایک مخصوص لباس ادارے کی شناخت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اور طلبہ کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک ہی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں۔ یونیفارم طلبہ کے لباس کے انتخاب سے متعلق روزمرہ دباؤ کو بھی کم کرتی ہے اور بعض اوقات لباس کی بنیاد پر بننے والی گروپ بندی، طبقاتی نمائش اور غیر ضروری فیشن مقابلے کو محدود رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ موجودہ فیصلے کے بعد یہ سوال بھی اہم بن گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ مستقبل میں ڈریس کوڈ کی نگرانی کس طرح کرے گی اور اس بات کو کیسے یقینی بنائے گی کہ یونیفارم کے خاتمے کے نام پر تعلیمی ماحول فیشن، برانڈز اور طبقاتی نمائش کے رجحان کی طرف نہ چلا جائے۔ اگر یونیفارم ختم کی گئی ہے تو اس کے متبادل کے طور پر واضح، تحریری اور یکساں ڈریس کوڈ کا مؤثر نفاذ ضروری ہوگا، تاکہ کسی طالب علم کے ساتھ لباس کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ ہو اور تمام طلبہ کے لیے یکساں معیار برقرار رہے۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے اس فیصلے نے اس سے بھی بڑا سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر یونیورسٹی میں پالیسیوں کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے گا۔ طلبہ اور والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مستقبل میں آنے والی انتظامیہ بھی اس فیصلے کو برقرار رکھے گی یا چند سال بعد ایک مرتبہ پھر یونیفارم لازمی قرار دے دی جائے گی۔ اگر بار بار پالیسی تبدیل ہوتی رہی تو طلبہ ہر مرتبہ نئے فیصلے کے مطابق مالی اخراجات کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یونیفارم ختم کرنے کے فیصلے کی وجوہات، اس کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار، متعلقہ فورمز کی منظوری اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو واضح کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کو شخصی فیصلوں کے بجائے ادارہ جاتی پالیسی، طلبہ کی سہولت، والدین کے مالی مفادات، مساوات، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو بنیاد بنانا چاہیے، کیونکہ یونیورسٹی کی پالیسیاں کسی ایک وائس چانسلر کے دور تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات کئی سال تک طلبہ، والدین اور ادارے پر رہتے ہیں۔







