ملتان ( خصوصی رپورٹر) ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد نے کہا ہے کہ ’’ملتان ٹیکنالوجی پارک‘‘کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے ذیعے ہم ٹریفک اور ویسٹ مینجمنٹ سمیت 9 شعبوں میں مسائل کا حل بتائیں گے ، رواں سال ستمبر میں کلاسوں کو نئی بلڈنگ لاڑ میں شفٹ کردیا جائے گا ، انجینئرز قوم کے معمار ہیں ان کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، یونیورسٹی میں جلد تین نئے پروگرام شروع کریں گے ، تین ماہ کے اندر تین پی سی ون اور جامعہ کا سٹریٹجک پلان تیار کیا ہے، طلباء کو روزانہ نئی چیز سیکھنی چاہیے جو ایسا نہیں کرتے وہ اساتذہ اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ قوم سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں تعیناتی کو تین ماہ ہوچکے ہیں مجھے آفس بیٹھ کر کام کرنے کی عادت ہے، 18 ، 18 گھنٹے کام کرتا ہوں اور اس دوران یونیورسٹی کی آپریشنلائزیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں سمیت تین پی سی ون تیار کئے ہیں جو منظوری کے حتمی مراحل میں ہیں ان پی سی ون کی منظوری کے بعد ہونے والی فنڈنگ سے یونیورسٹی صحیح معنوں میں یونیورسٹی کہلانے کے قابل ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں اپنی نوعیت کے پہلے”ملتان ٹیکنالوجی پارک ” منصوبہ کی سنڈیکیٹ سے منظوری ہوچکی ہے ، ٹیکنالوجی پارک کے ذریعے ملتان کی مقامی مسائل فوکس کیے جائیں گے جن میں بوسن روڈ پر ٹریفک پرابلم ، ویسٹ مینجمنٹ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی سٹی ایپلی کیشنز سمیت 9 ایریاز میں کام کیا جائے گا اور ملتان ٹیکنالوجی پارک کے ڈویلپرز ان مسائل کا حل بتائیں گے ، انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں صرف ایک ٹیکنالوجی پارک نسٹ یونیورسٹی میں ہے جبکہ یو ای ٹی کا ماڈل کچھ مختلف ہے ، ٹیکنالوجی پارک میں سب سے پہلے ہم ورچوئل کام شروع کریں گے یعنی پہلے ورچوئل کام کرکے دیں گے اس کے بعد پی سی ون دیا جائے گا کہ یہ کام ہم نے ورچوئلی کیا ہے،دوسرے فیز میں ہمیں بلڈنگ بنا کر دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں بزنس اینا لیٹکس ، ڈیٹا سائنس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے تین نئے پروگرام شروع کرنے جارہے ہیں ، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کمپوٹر سائنس کا رجحان اس وقت بہت زیادہ ہے ، 30 ، 40 ہزار گریجوایٹ نکل رہا ہے لیکن ملازمتوں کے حوالے سے مستقل نظر نہیں آرہا تاہم جس کے پاس مہارت ( سکل ) ہے اس کے لئے بے حد مواقع ہیں جبکہ اس کی نسبت انجینئرنگ ایک ایسی چیز ہے جس میں سڑکیں ، پل ، انفراسٹرکچر ، ٹیلی فون لائن ، پنکھے اور اے سی تک انجینئر نے بنانے ہیں ، اگر انجینئرنگ کو فروغ دیا جائے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا لیکن اگر انجینئرز کو کام نہیں کرنے دیں گے تو پھر ہم جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو اچھے اور بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کررہا ہوں، سٹاف سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلنے کی خواہش ہے ، ڈاکٹر توصیف ایزد نے کہا کہ مجھے کام نہ کرنے اور ڈلیور نہ کرنے والوں سے سخت نفرت ہے، مجھے سب سے زیادہ اری ٹیشن اس وقت ہوتی ہے جب میں کام کہوں اور وہ پورا نہ ہو ، میں سمجھتا ہوں جس دن ہم ڈیوٹی پر آکر ڈلیور نہیں کرکے گئے اس دن ہم نے حرام کھایا ، میرا فوکس ہے کہ میں اگر یہاں بیٹھا ہوں تو ادارے کو کیا دیا ہے ان شاءاللہ محنت لگن اور دیانت داری کیساتھ اسٹاف، تمام سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو جنوبی پنجاب کی صف اول کی یونیورسٹی بنائیں گے اور یہاں کا گریجوایٹ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملک کا نام روشن کرے گا ، وائس چانسلر نے مزید کہا کہ جب میں کلاس میں جاتا ہوں تو سٹوڈنٹس سے کہتا ہوں جتنی دیر میں آپ کے پاس موجود ہوں اگر اس دوران آپ نے مجھ سے کوئی نئی چیز نہیں سیکھی تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنا وقت ضائع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے ہمراہ جلد نئی بلڈنگ میں بیٹھنا شروع کردوں گا اور ستمبر تک کلاسوں کے اجراء کے تمام انتظامات مکمل کرلیں گے تاکہ یکم ستمبر 2026 سے طلباء اپنے نئے سیشن کا آغاز نئی بلڈنگ سے کریں ۔







