ڈیرہ واقعہ نے ملک ہلا دیا، میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ مقتل سے معصوموں کی پکار

ملتان (سٹاف رپورٹر) ڈیرہ غازی خان ایک بار پھر ایک ایسے لرزہ خیز سانحے کا گواہ بن گیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ معصوم بچیوں کی چیخیں، ملبے تلے دبی کتابیں، زخمی بچوں کی سسکیاں اور بے بس والدین کے آنسو اس تلخ حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کی مبینہ بے احتیاطی اور سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت اب انسانی جانیں نگلنے لگی ہے۔ ایک نجی سکول کی خستہ اور زیرِ تعمیر عمارت اچانک موت کا ملبہ بن گئی جہاں چار معصوم بچے شہید، 16 بچے زخمی، دو اساتذہ لہولہان جبکہ دو مزدور بھی ملبے تلے دب گئے۔ اس ہولناک حادثے نے صرف ایک سکول نہیں بلکہ پورے نگرانی کے نظام، تعمیراتی قوانین اور متعلقہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر خوفناک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول کی خستہ اور غیر محفوظ عمارت میں پیش آنے والا ہولناک سانحہ جہاں چار معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے، 16 بچے زخمی ہوئے، دو اساتذہ شدید زخمی ہوئے جبکہ دو مزدور بھی ملبے تلے دب گئے، اب صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ سرکاری اداروں کی بدترین نااہلی، مجرمانہ غفلت اور مبینہ ملی بھگت کی علامت بن چکا ہے۔ شہر بھر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر اس سانحے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ صرف سکول انتظامیہ یا وہ سرکاری افسران بھی جنہوں نے آنکھیں بند کر کے خطرناک عمارت کو بچوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا؟ ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت نیچے کمروں میں معصوم بچیاں کلاسیں لے رہی تھیں جبکہ ان کے سروں کے اوپر تعمیراتی کام جاری تھا۔ حیران کن طور پر چھت پر اینٹیں، ریت، سیمنٹ کی بوریاں، ملبہ اور بھاری سامان رکھا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس قانون کے تحت زیرِ استعمال کلاس رومز کے اوپر تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی؟ کیا کسی ذمہ دار ادارے نے اس کی منظوری دی تھی یا سب کچھ مبینہ طور پر ’’سیٹنگ‘‘کے ذریعے چل رہا تھا؟ شہری حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر محکمہ بلڈنگز، محکمہ تعمیرات اور دیگر متعلقہ ادارے ہر سال نجی عمارتوں، سکولوں اور ہسپتالوں کا فٹنس سرٹیفکیٹ اور انسپیکشن کرتے ہیں تو اس سکول کی آخری انسپیکشن کب ہوئی؟ اس عمارت کو محفوظ قرار دینے والا افسر کون تھا؟ اگر انسپکشن نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی؟ اور اگر ہوئی تھی تو پھر یہ موت کا کنواں بچوں کے لیے کیسے کھول دیا گیا؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمارت کی ناقص تعمیر، غیر قانونی تعمیراتی سرگرمی یا سرکاری غفلت کے باعث انسانی جانیں ضائع ہوں تو صرف مالک ہی نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری افسران بھی فوجداری کارروائی کے دائرے میں آتے ہیں۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف رسمی انکوائری نہیں بلکہ اقدامِ قتل اور غفلتِ مجرمانہ کے مقدمات درج کیے جائیں تاکہ آئندہ کوئی افسر یا سکول مالک بچوں کی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔ شہر میں یہ سوال بھی زبان زدِ عام ہے کہ ہفتے میں متعدد تعطیلات ہونے کے باوجود تعمیراتی کام کلاسوں کے دوران ہی کیوں کروایا جا رہا تھا؟ کیا سکول انتظامیہ کو بچوں کی جانوں سے زیادہ عمارت کی جلد تکمیل عزیز تھی؟ اور اگر اوپر تعمیراتی کام جاری تھا تو نیچے کلاسیں جاری رکھنے کی اجازت کس نے دی؟ عوامی حلقے ایک اور اہم سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو چند برس قبل تک ایک معمولی ٹیوشن سنٹر یا چھوٹا تعلیمی مرکز چلاتا تھا، وہ اچانک چار چار سکولوں کا مالک کیسے بن گیا؟ کیا متعلقہ اداروں نے کبھی اس کے مالی ذرائع، تعمیراتی منظوریوں اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا یا سب کچھ اثر و رسوخ کے سائے میں ہوتا رہا؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر آج بھی صرف چند ماتحت ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل ذمہ داروں کو بچا لیا گیا تو کل کسی اور شہر میں کوئی اور سکول ملبے کا ڈھیر بنے گا اور پھر چند دن شور مچانے کے بعد سب خاموش ہو جائیں گے۔ والدین سوال کر رہے ہیں کہ آخر بچوں کو سکول بھیجیں یا موت کے کنویں میں؟ اس سانحے نے نہ صرف نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی مبینہ لاپروائی، کرپشن اور خاموشی کس طرح معصوم جانوں کی قاتل بن سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں