ملتان (عوامی رپورٹر) ملک میں جب بھی سیاسی جوڑ توڑ اور حکومتوں کے تبدیل ہونے یا آئینی سربراہان کی تبدیلی کی افواہیں عروج پر پہنچتی ہیں تو سرکاری افسران اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے سربراہان اور فیصلہ کن اسامیوں پر بیٹھے افسران کی پانچوں گھی میں از خود ڈل جاتی ہیں۔ ایسی گومگوں کی پوزیشن میں انہیں اس صورتحال کو کیش کرانے کے ساتھ ساتھ کھل کھیلنے کا بھرپور موقع فراہم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے جاری اختیاراتی کشمکش اور افواہوں نے سرکاری،
نیم سرکاری اور مختار اداروں کے سربراہوں کی موجیں لگا رکھی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اہم و سربراہی اسامیاں مختلف اضلاع اور ڈویژنز میں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے سائلین وفاقی اور صوبائی سطح کے محکموں میں روزانہ دھکے کھا کر اذیت کمانے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں اور نچلے درجے کا عملہ و اہلکار اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پنجاب اور وفاق میں جہاں سینکڑوں افسران او ایس ڈی بنے بیٹھے ہیں وہاں اسی طرف بعض افسران بیک وقت مختلف محکموں میں چار چار اسامیوں پر اضافی چارج کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور کھل کھیل رہے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اہم ترین تحقیقاتی محکموں میں ایک ایک افسر کے پاس دو دو اور تین تین ڈویژنوں کے چارج ہیں جبکہ اسی قسم کی صورتحال پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں بھی ہے اور ایک ایک وائس چانسلر کے پاس اپنی یونیورسٹی کے علاوہ دیگر یونیورسٹیوں کے سینکڑوں کلومیٹر دور کے اضافی چارجز بھی ہیں۔ موبائل کے استعمال کے دور میں جہاں سائبر کرائمز میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے وہاں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے ملتان میں این سی سی آئی اے کے ڈویژنل سربراہ کی اسامی خالی ہے اور چارج ڈائریکٹر لاہور کے پاس ہے جن کے پاس لاہور ڈویژن کی بھی درجنوں فائلیں زیر التوا ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنی ڈویژن کے مقدمات کی بھرمار ہے اور حیران کن عمل یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور کے ڈائریکٹر علی وسیم بھی ٹرانسفر ہو چکے ہیں اور اب ملتان کے علاوہ لاہور کی سیٹ پر بھی کوئی ڈائریکٹر موجود نہیں جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں زیر التوا ہیں کیونکہ ان پر حتمی فیصلہ اور منظوری یا مسترد کیے جانے کے احکامات ہوا میں معلق ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کے پاس کئی ماہ تک ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ساہیوال کا چارج بھی رہا اور تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی اسی قسم کی ہے کہ ملتان میں دیگر سرکاری سطح کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی موجودگی میں اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کا چارج بھی دے دیا گیا ہے اور اسی طرح ڈیرہ غازی خان کی یونیورسٹی کا اضافی چارج کئی ماہ تک ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر کے پاس ہے جو کہ از خود بری طرح مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ بہت سی یونیورسٹیوں میں پرو وائس چانسلر اور ڈینز کی اسامیاں خالی ہیں جنہیں پر ہی نہیں کیا جا رہا اور جو سفارش یا میرٹ پر پورے نہ اترنے کے باوجود وائس چانسلر بنے بیٹھے ہیں وہ اپنے نیچے پرو وائس چانسلر یا دیگر کسی بھی انتظامی عہدے دار کو مستقل طور پر تعینات کرنے میں از خود رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی کے سینیٹ اور سینڈیکیٹ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے بلکہ بعض یونیورسٹیوں میں طلبہ کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی آمدن میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔







