ملتان رجسٹری برانچ میں مبینہ بے ضابطگیاں، جائز کام بھی عذاب بن گئے

ملتان (سپیشل رپورٹر )ملتان رجسٹری برانچ ایک بار پھر مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور رشوت ستانی کے الزامات کی زد میں آ گئی ۔ عوام کو ذہنی اذیت، پانی نہ ہوا کا انتظام، اپنے جائز کام ہی عذاب بن گئے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تحصیلدار سٹی وامق علی کھوکھر کی مبینہ سرپرستی میں رجسٹری برانچ کے کلرک محسن اور ذیشان شہریوں سے مارکنگ فیس کے نام پر 10 سے 15 ہزار روپے تک وصول کر رہے ہیں، محسن کلرک کرپشن میں تحصیلدار عاصم مشتاق کےدور میں سرینڈر ہوا جبکہ ذیشان کلرک کے اوپر الزام ہے کہ اپنی یونین کے فنڈز خورد برد کیے۔ عوام سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی مقررہ فیس اور ٹیکسز کے علاوہ بھی شہریوں کو اضافی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے رجسٹری کے لیے تمام قانونی فیسیں اور ٹیکس مقرر ہونے کے باوجود انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے خوار کیا جاتا ہے اور مبینہ طور پر بغیر اضافی رقم ادا کیے ان کے معاملات نمٹائے نہیں جاتے۔ شہریوں کے مطابق رجسٹری برانچ میں شفافیت کے بجائے مبینہ طور پر رشوت کا ایک منظم نظام قائم ہو چکا ہے، جس سے عام آدمی شدید ذہنی اذیت اور مالی بوجھ کا شکار ہے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹری برانچ میں مبینہ بدعنوانی کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو تحصیلدار سٹی وامق علی کھوکھر اور نامزد کلرکوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ رجسٹری برانچ کے مالی اور انتظامی معاملات کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور سائلین کو بلاوجہ تنگ کرنے اور غیرقانونی وصولیوں میں ملوث عناصر کا احتساب یقینی بنایا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں