مذاکرات یا ایران تباہ، جلد فیصلہ کروں گا: ٹرمپ

اسلام آباد(بیورورپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، امریکا آگے بڑھ رہا ہے اور امریکا کا مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکا میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکا میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں منہگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا۔اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہُرمُز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا ذکر کیا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، امریکا کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی ’امریکا مخالف ٹریبونل‘ کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباشریف بہترین شخص ہیں اور وہ ایک عظیم لیڈر ہیں ، وزیراعظم پاکستان نے کہا میں نے کروڑوں کی جانیں بچائیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پنے خطاب میں کہناتھا کہ مجھے یقین ہے کہ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا، ایران کے بارے میں مجھے ایک فیصلہ کرنا ہے، ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہمیں متحد رہنا ہوگا، ایران کی حکومت کمزور اور مایوس ہے، تمام ممالک ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ پیس کے لوگ بہت خاص اور اچھے ہیں،غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان ،قطر ،اردن اور دیگر ممالک شریک ہیں،میں نے دنیا 8جنگیں ختم کرائیں،میں کئی ایسی جنگیں ختم کرائی جو کئی سالوں سے جاری تھیں،پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرائی ۔ روس اور یوکرین جنگ میں روزانہ 25ہزار فوجی مر رہے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا،وینزویلانے بڑے پیمانے پر تیل حاصل کر رہے ہیں اور فروخت کر رہے ہیں، میں بڑے فیصلے کرنے جا رہا ہوں، مجھے دوبارہ فیصلہ کرنا میں ایران کو تباہ کردوں یا نہیں، ایرانیوں کو معلوم نہیں میں تو مڈٹرم الیکشن نہیں لڑرہا، ایرانی دیکھنا چاہتے ہیں مڈٹرم الیکشن کے بعد میری پوزیشن کیا ہوتی ہے۔کیوبا کے وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران واک آوٹ کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں