لیگی قیادت اور چوہدری گروپ میں دراڑیں، افتخار نذیر کا استعفیٰ وزیراعظم کے پاس محفوظ

ملتان (روزنامہ قوم خصوصی رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ کی صوبائی اور مرکزی قیادت اور جہانیاں کے معروف سیاسی چوہدری افتخار نذیر خاندان کے مابین دراڑ ابھی تک پر نہیں ہو سکی اور تادم تحریر ترقیاتی کاموں اور دیگر سیاسی امور کے حوالے سے انہیں شدید قسم کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2024 کے انتخابات میں جہانیاں کے حلقہ پی پی 209 سے رکن صوبائی اسمبلی ضیا الرحمان کے بیٹے حسین ضیا کی نوابزادہ ایاز خان نیازی کے بھائی کے ساتھ ہاتھا پائی اور گالم گلوچ ہوئی جس کا مقدمہ حسین ضیا کے خلاف درج ہو گیا تو وہ فوری طور پر راتوں رات اپنے چچا حاجی عطا الرحمٰن کی طرح پاکستان چھوڑ کر دبئی چلے گئے۔ یاد رہے کہ سدرہ سلیم کیس میں بھی حاجی عطا الرحمٰن کی جب کہیں بن نہ پائی تو وہ بھی دبئی بھاگ گئے تھے پھر چوہدری افتخار نذیر کے ذریعے سیٹلمنٹ ہونے کے بعد ہی واپس آئے تھے۔ نوابزادہ ایاز خان نیازی نے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے انٹرپول کے ذریعے حسین ضیا کو دبئی سے گرفتار کرنے کے انتظامات جب مکمل کر لیے تو وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے خصوصی وقت لے کر فوری طور پر چوہدری افتخار نذیر نے وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مدد کی اپیل کی تاہم اس موقع پر دونوں طرف سے گلے شکوے بھی ہوئے۔ چوہدری افتخار نذیر کا موقف تھا کہ اگر میرا بھتیجا انٹرپول کے ذریعے گرفتار ہو جاتا ہے تو میرے پاس سیاسی طور پر کچھ نہیں رہے گا اور یہ بھی شکوہ کیا کہ ہم گزشتہ 20 سال سے مسلم لیگ کے ساتھ ہیں مگر ہمیں کبھی وزارت نہیں ملی جبکہ ہم سے کہیں جونیئرز کو دو دو مرتبہ وزارتیں مل چکی ہیں اور نہ ہی ہمارے حلقے میں فنڈز مل رہے ہیں جبکہ جہانیاں میں زکریا یونیورسٹی کے سب کیمپس کا اعلان ہوا تو اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوا اس لیے میرے پاس کوئی چارہ نہیں کہ میں اپنا استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاؤں اور پھر سادہ کاغذ پر دستخط کرکے شہباز شریف کے حوالے کر دیئے گئے کہ آپ اس پر میرا استعفیٰ ٹائپ کرا لیں یا پھر میرے مطالبات منظور کر لیں۔ سالہا سال سے سیاست کے اسرار و رموز سے مکمل طور پر آگاہی رکھنے والے میاں شہباز شریف نے فوری طور پر استعفیٰ منظور تو نہ کیا البتہ اسے سنبھال کر رکھ لیا اور پھر اپنا تعلق استعمال کرکے صدر مملکت کے ذریعے یہ طے پایا کہ جہانیاں کے چوہدری برادران کچا کھوہ جا کر نوابزادہ ایاز خان نیازی سے معذرت کریں گے جس پر یہ تینوں بھائی ایاز خان نیازی سے ملے اور اس موقع پر یہ معاہدہ ہوا کہ حسین ضیا ولد چوہدری ضیاالرحمٰن ایم پی اے پی پی 209 سے اس شرط پر صلح ہو گی کہ آئندہ سے حسین ضیا اپنے والد کے حلقہ انتخاب پی پی 209 میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا اور اگر انہوں نے دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کی تو جو استعفیٰ میاں شہباز شریف کے پاس پڑا ہے اس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے اور پھر اس حلقے میں ضمنی الیکشن ہوں گے۔ تلخی اور احترام کے ملے جلے ماحول میں بالآخر نوابزادہ ایاز خان نیازی نے بڑے پن کامظاہرہ کرتےہوئےگھرآئے مہمانوں کابھرم رکھتے ہوئےکارروائی روک،دوسری جانب حسین ضیا نے حلقہ پی پی 209 میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں سے خود کو جزوی طور پر علیحدہ کر لیا۔ اسی دوران وزیراعظم پاکستان شہبازشریف حاجی عرفان خان ڈاہا کے انتقال پر افسوس کے لیے ان کے رکن قومی اسمبلی بیٹے کے پاس خانیوال آئے تو اس موقع پر چوہدری افتخار نذیر اور حاجی عطا الرحمٰن بھی وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم سے معذرت بھی کی اور اپیل کی کہ چونکہ چوہدری پرویز الٰہی اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں جہانیاں میں جلسہ عام کرکے گئے تھے اور بہت سے ترقیاتی کاموں کا اعلان بھی کر کے گئے تھے اس لیے خواہ دو منٹ کے لیے ہی آئیں مگر آپ جہانیاں کا دورہ ضرور کرتے جائیں جس پر وزیراعظم شہباز شریف چند منٹوں کے لیے جہانیاں آئے مگر انہوں نے عوام سے ملاقات نہ کی اور نہ ہی کسی قسم کے جلسے کا اعلان ہوا نہ فنڈز کا اعلان کیا گیا اور محض پندرہ افراد کی موجودگی میں چند منٹ گفتگو کرکے میاں شہباز شریف واپس اسلام آباد تشریف لے گئے ۔اس صورتحال نے جہانیاں کے چوہدری برادران کی فرسٹریشن میں کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ وقت لے کر صدر مملکت آصف علی زرداری کی بہن محترمہ فریال تالپور سے ملاقات کی اور ان کے ذریعے آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا عندیہ دیا مگر یہاں حاجی عطا الرحمٰن کی ماضی کی کہانیاں رکاوٹ بن کر سامنے آ گئیں اور ابھی تک یہ فیصلہ لٹکا ہوا ہے۔ روزنامہ قوم نے اس خبر کو شائع کیا کہ جہانیاں کے چوہدری افتخار نذیر گروپ کی پیپلز پارٹی سے ڈیل ہو رہی ہے جس کی ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود چوہدری افتخار نذیر یا ان کے بھائیوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی تردید نہیں ہوئی بلکہ مکمل خاموشی ہے۔ تاہم ان کے گروپ کے لوگ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل کی اس تحقیقاتی رپورٹ پر سیخ پا ہو رہے ہیں اور اپنی اپنی اخلاقی تربیت کے مطابق روزنامہ قوم کی رپورٹ کے خلاف الفاظ کا چناؤ کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں