ملتان(وقائع نگار)وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ملتان سنٹر کے سابق جنرل منیجر خالد محمود لکھن کی جانب سے دائر سول پٹیشن فار لیو ٹو اپیل (C.P.L.A. No. 3378/2023) مسترد کرتے ہوئے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسمنٹ (FOSPAH) کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق 17 جولائی 2026 کو جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کے بعد اپیل خارج کر دی۔یہ مقدمہ وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسمنٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کیا گیا تھاجس میں سابق جنرل منیجر خالد محمود لکھن کو پی ٹی وی ملتان سنٹر کی ایک خاتون میک اپ آرٹسٹ کو ہراساں کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے اور متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔اس سے قبل 19 مئی 2023 کو اُس وقت کے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی وفاقی محتسب کے فیصلے کو قانون اور دستیاب شواہد کے مطابق قرار دیتے ہوئے خالد محمود لکھن کی نمائندگی مسترد کر دی تھی۔ صدارتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے اور ہراسمنٹ کے مرتکب افراد کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد وفاقی محتسب کا حکم بدستور برقرار رہے گاجسے قانونی ماہرین کام کی جگہ پر ہراسمنٹ کے خلاف موجود قوانین کے مؤثر نفاذ اور متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی کے اصول کی توثیق قرار دے رہے ہیں۔







