لودھراں (نمائندہ خصوصی)لودھراں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کرپشن سکینڈل میں کروڑوں کا سرکاری سامان غائب، جعلی کلرک امیر تبسم اورعارضی سی ای او عظیم ریاض کی جوڑی نے ڈپٹی کمشنر لودھراں کو بھی بے وقوف بنا دیا محکمہ صحت لودھراں کرپشن، نااہلی اور لوٹ مار کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے، جہاں کرپٹ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عظیم ریاض اور مبینہ طور پر جعلی میٹرک اور جعلی بھرتی کلرک امیر تبسم کی جوڑی نے مل کر محکمہ کو ذاتی جاگیر سمجھ کر لوٹنے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ تازہ ترین ہولناک سکینڈل اس وقت سامنے آیا جب محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کو محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ میں ضم کیا گیا، اور ضلعی سطح پر پاپولیشن کے تمام دفاتر کا سامان، اثاثے اور ریکارڈ متعلقہ اضلاع کے سی ای اوز کی تحویل میں دینے کے احکامات جاری کیے گئے۔ لیکن لودھراں کے ان نام نہاد مافیا افسران نے ان احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس قیمتی سرکاری سامان کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر ٹھکانے لگانے کا شاندار کھیل شروع کر دیا۔قانون اور ضابطے کے مطابق محکمہ پاپولیشن سے ملنے والے سامان کی تفصیلی لسٹیں بنائی جانی چاہئیں تھیں اور اس کا چارج کسی باقاعدہ ذمہ دار سٹور کیپر یا سینئر افسر کے سپرد ہونا چاہیے تھا۔ مگر ڈاکٹر عظیم ریاض نے کمال چالاکی دکھاتے ہوئے تمام سامان ایک میٹرک فیل اور جعلی کلرک امیر تبسم کے حوالے کر دیا۔اس مبینہ کلرک نے اپنی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں خفیہ طریقے سے کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی ترین سامان جس میں مہنگے ترین لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل کیمرے، اے سیز اور دیگر الیکٹرانک آلات شامل تھےغائب کر دیے اور باقی ماندہ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور میزیں چند ملازمین میں بانٹ کر یہ ڈھونگ رچایا کہ پاپولیشن کا سارا سامان سرکاری دفاتر میں ایمانداری سے تقسیم کر دیا گیا ہے۔







