ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس ملتان کا یہ واقعہ محض ایک انتظامی تنازع نہیں، بلکہ ایک غریب اور محنت کش انسان کی عزت، روزی اور بقا کی جنگ کی کہانی ہے۔ کانسٹیبل محمد محسن جو سپیشل کوٹے پر بھرتی ہوا تھا، کسی بڑی نوکری یا طاقت کے بھروسے پر نہیں آیا تھا؛ وہ بھی ان لاکھوں نوجوانوں کی طرح ایک معمولی ملازمت کے سہارے اپنے گھر کا چولہا جلانے آیا تھا۔ لیکن جب دفتر میں اسے مبینہ طور پر مسلسل حقارت، دھونس اور ہتک آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا، تو اس کے اندر کا انسان ٹوٹ گیا۔ ایک دن دل برداشتہ ہو کر اس نے دفتر میں ہی اپنے اوپر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی۔ یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے کہ ایک نوجوان اپنی جان لینے پر مجبور ہو جائے، صرف اس لیے کہ اسے انصاف اور عزت نہ ملی۔
خوش قسمتی سے موقع پر موجود ملازمین نے فوری طور پر اسے قابو کر لیا اور اسے خود سوزی سے بچا لیا۔ ان ملازمین نے درحقیقت ایک قیمتی جان بچائی، ایک گھر کو اجڑنے سے روکا اور انسانیت کا فرض ادا کیا۔ لیکن محکمے کی طرف سے اس عمل کا صلہ یہ ملا کہ جن لوگوں نے محمد محسن کو بچانے میں کردار ادا کیا، انہی کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی۔ ڈائریکٹر ایکسائز افتخار احمد بھلی کی جانب سے سینئر کلرک محمد حسن عباس کو معطل کر دیا گیا، ڈیٹا انٹری کلرک محمد رفیق کا تبادلہ خانیوال کر دیا گیا اور انسپکٹر مجید نانڈلا سے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ محکمے میں مسئلے کی جڑ تک جانے کے بجائے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہوں نے بروقت مداخلت کر کے ایک انسان کی جان بچائی۔
اس پورے واقعے میں سب سے زیادہ سوالیہ نشان ای ٹی او شکیل چوہان کا کردار ہےجس کے مبینہ متکبرانہ اور ہتک آمیز رویے کو خود سوزی کی کوشش کی بنیادی وجہ بتایا جاتا ہے۔ شکایات کے مطابق شکیل چوہان دفتر میں دھونس، رعب اور بدتمیزی کے ذریعے کام کراتا ہے، اپنے سرکل میں لوگوں کو تنگ کرتا ہے اور مبینہ طور پر ماہانہ لاکھوں روپے بٹورنے میں ملوث ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک ایسے افسر کے خلاف بار بار شکایات کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ بتایا جاتا ہے کہ شکیل چوہان کو ڈائریکٹر ایکسائز کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، اور یہی سرپرستی اسے ہر قسم کے احتساب سے محفوظ رکھتی ہے۔ ایک طرف ایک کمزور کانسٹیبل خود سوزی پر مجبور ہو، دوسری طرف مبینہ طور پر کرپشن اور بدسلوکی میں ملوث افسر کو کلین چٹ مل جائے—یہ محکمے کے اندر موجود گہرے بحران کی واضح تصویر ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس بڑے واقعے کے باوجود شکیل چوہان کے خلاف نہ کوئی انکوائری کی گئی، نہ شوکاز جاری کیا گیا اور نہ کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جبکہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خانیوال سے رانا کنور تنویر اور وہاڑی سے بشیر کھرل پر مشتمل دو رکنی کمیٹی بنائی گئی لیکن تاحال اس کمیٹی کی رپورٹ بھی جمع نہیں کرائی گئی۔ رپورٹ کے تاخیر سے جمع نہ ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معاملے کو جان بوجھ کر ٹھنڈا کیا جا رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک محکمہ جو اپنے ملازمین کے تحفظ، عزت اور انصاف کا ذمہ دار ہے، وہاں اگر خود سوزی جیسے واقعے کے بعد بھی کارروائی نہ ہو، تو عام ملازم کس سے امید رکھے؟
محمد محسن کی خود سوزی کی کوشش دراصل ایک بے آواز انسان کی بلند ترین احتجاجی چیخ تھی، جو شاید کسی نے نہ سنی۔ اس کے پیچھے ایک ایسا نظام ہے جہاں طاقتور کو تحفظ ملتا ہے اور کمزور کو مزید کچلا جاتا ہے۔ اگر محکمہ ایکسائز واقعی اصلاح چاہتا ہے تو شکیل چوہان کے خلاف فوری اور غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے، ان ملازمین کی بحالی ہونی چاہیے جنہوں نے جان بچائی، اور ڈائریکٹر ایکسائز کی مبینہ سرپرستی کی بھی آزادانہ تحقیق ہونی چاہیے۔ ورنہ یہ پیغام جائے گا کہ اس محکمے میں انسانیت سے بڑھ کر سرپرستی ہے، اور انصاف سے بڑھ کر خاموشی۔







