لودھراں: سی سی ڈی کی طاقت کا نشہ، میتلا خاندان کی غنڈہ گردی، نوجوان پر بہیمانہ تشدد

ملتان (کرائم سیل) پنجاب بھر میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو سی سی ڈی کہا جاتا ہے جب کہ لودھراں سرکل میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے معنی تبدیل کرکے اسے “کرائم کرو ڈیپارٹمنٹ” بنا دیا گیا ہے۔ سی سی ڈی لودھراں سٹی کے سرکل انچارج سب انسپکٹرنزاکت میتلا کے خاندان نے اپنے علاقے میں غنڈہ گردی کی انتہا کر رکھی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ نزاکت میتلا کا والد اقبال میتلا علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے اور بلا وجہ لوگوں کو بے عزت کرنا اس نے اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ دو روز قبل ملتان بہاولپور روڈ پر مخدوم عالی میں منور ہوٹل پر نزاکت میتلا کا والد اقبال میتلا، جسے کم سنائی دیتا ہے، ہوٹل پر بیٹھا دودھ پی رہا تھا جب کہ اس کے ساتھ والے میز پر ساجد گجر نامی نوجوان بھی ٹھنڈے دودھ کی بوتل پی رہا تھا۔ ساجد نے ویٹر سے پوچھا کہ اس دودھ کے کتنے پیسے ہیں تو اس نے 200 روپے بتائے اور ساجد نے وہ رقم ادا کر دی۔ اسی دوران سی سی ڈی انچارج نزاکت میتلا کے والد اقبال میتلا نے بھی دودھ کی بوتل کے پیسے پوچھے تو تھوڑے فاصلے سے ویٹر نے 200 روپے کی آواز لگائی جسے اقبال میتلا سن نہ سکے تو قریب بیٹے ساجد گجر نے بلند آواز میں کہا۔ بابا جی وہ 200 روپے کہہ رہا ہے جس پر اقبال میتلا طیش میں آ کر ساجد گجر کو گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بابا کیوں کہا اور پھر اٹھ کر اسے تھپڑ مار دیا جس کے جواب میں ساجد گجر نے اقبال میتلا کو دھکا دے کر اپنے سے دور کر دیا۔ اقبال میتلا نے قریب بیٹھے ہوئے اپنے رشتہ داروں کو آواز دے کر بلا لیا اور انہوں نے ساجد گجر پر تشدد شروع کر دیا اسی دوران نزاکت میتلا کا کزن اکمل میتلا جو کہ کہروڑ پکا تھانہ صدر میں محرر ہے، وہ بھی چار نامعلوم افراد کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور انہوں نے زمین پر لٹا کر ساجد گجر پر ٹوکے ،لاٹھیوں ،بندوق کے بٹوں اور ٹھڈوں سے تشدد کرنا شروع کر دیا مگر وہاں موجود کسی کو چھڑانے کی جرات نہ ہوئی اور ساجد گجر جان بچانے کے لیے اکمل میتلا کے پاؤں پڑ گیا اور اس کے باوجود سات آٹھ افراد نے ساجد گجر پر تشدد جاری رکھا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا اور اس کی حالت غیر ہونے پر یہ تمام اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت ساجد گجر شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال دنیا پور میں زیر علاج ہے اور اس کا میڈیکل ہو چکا ہے مگر اس کے مقابلے میں نزاکت میتلا نے اپنے دو قریبی عزیزوں کو جعلی زخم لگا کر ان کا میڈیکل کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ جب سے نزاکت میتلا سی سی ڈی لودھراں سرکل کا انچارج بنا ہے میتلا خاندان نے علاقے میں ات مچا رکھی ہے اور سرعام لوگوں کو بے عزت کرتے ہیں۔ اقبال میتلا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بھی ہر کسی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اور بیٹا اس کی مکمل سپورٹ کرتا ہے مگر ساجد گجر والے معاملے میں تو میتلا خاندان نے انتہا کر دی۔ میڈیکل رپورٹ شدید تشدد اور سرکاری ہسپتال میں داخلے کے باوجود ساجد گجر کی فیملی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں