لودھراں: دلہن سدرہ کی ڈولی کے بجائے جنازہ اٹھ گیا، ہر آنکھ اشکبار، قاتل کی حالت نازک

لودھراں (نمائندہ خصوصی،بیورورپورٹ) بارات آنےسے دوگھنٹے قبل قتل ہونےوالی 19سالہ دلہن سدرہ کی نمازجنازہ اداکردی گئی۔ڈولی کے بجائے جنازہ اٹھنےپرہرآنکھ اشکبارتھی۔مقتولہ کی نمازِ جنازہ ادا کرکےمقامی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا نماز جنازہ میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ فضا سوگوار رہی دوسری جانب قاتل 22سالہ مدثرجس نے خودکوبھی چھریاںمارکرزخمی کرلیاتھاجووکٹوریہ ہسپتال بہاول پور میںتشویشناک حالت میں داخل ہے۔قاتل مدثرنے حملہ سے قبل ٹک ٹاک پرویڈیوبھی اپ لوڈکی جس میں کہاگیاتھاکہ ’’اگرتونہ ہوامیرا،توخداکی قسم،دونوں راجہ پورکی خاک میں ملیں گے‘‘۔قاتل مدثرسدرہ سے شادی کرناچاہتاتھااوررشتہ نہ ملنےپرانتہائی قدم اٹھایا۔دوسری جانب مقتولہ دلہن سدرہ کاوالدسرفراز محنت کش گھرانے سے تعلق رکھتاہےاور گاؤں میں چکی (آٹا پیسنے کی مشین) چلا کر اپنے اہلخانہ کی کفالت کرتاہے۔ملز م کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا اور وہ دلہن کا کزن بتایا جا رہا ہے۔مزید معلوم ہوا ہے کہ دولہا کا خاندان بھی علاقے میں ایک بااثر حیثیت رکھتا ہے، اور دولہا کے والد مختلف کاروبار، جن میں جائیداد اور دکانوں کا انتظام شامل ہے، سے وابستہ ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں طرح طرح کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور لوگ اس سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔دلہن سدرہ کی نمازِ جنازہ گزشتہ صبح 10 بجے ادا کی گئی جس میں علاقے بھر سے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور فضا سوگوار تھی۔دریں اثناملزم مدثربھی ڈی ایچ کیوبہاول پورمیں زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے دم توڑگیا۔یادرہےکہ گزشتہ سے پیوستہ روزرشتہ نہ دینے کے رنج پرناکام عاشق نے اپنی کزن کو بارات آنے سے دو گھنٹے قبل چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کرنے کے بعداپنی گردن پربھی چھر ی چلا کرخودکو شدید زخمی کرلیا تھا۔ لودھراں کے نواحی علاقہ موضع راجہ پور کی رہائشی سدرہ دختر سرفراز جو کہ لودھراں شہر میں بیوٹی پارلر میں تیار ہونے کیلئے آئی ہوئی تھی جس کی تقریباً دو گھنٹے بعد بارات آنی تھی ۔تقریباً 6بجے شام ان کا قریبی رشتہ دار نوجوان مدثر ولد محبوب الٰہی چھری لیکرزبردستی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا جس نے دلہن جس کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی تھی پر چھریوں کے وار کر تے ہوئے اس کی گردن کاٹ ڈالی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی ۔اس نے اپنے آپ کو بھی چھریوں کے وار کر کے شدید زخمی کر لیا ۔اطلاع ملنے پر قائم مقام ڈی پی او رانا عبدالرزاق،ڈی ایس پی صدر عابد حسین بھلہ،ایس ایچ او سٹی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں سے انہوں نے دلہن کی نعش اور زخمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لودھراں منتقل کر دیا ۔اس موقع پر ڈی ایس پی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچی کی آج بارات آرہی تھی جس کیلئے وہ تیار ہونے پارلر آئی جہاں اسکی کی پھوپھی کا بیٹا مدثر محبوب چھری لیکر آیا جس نے اپنی کزن کو قتل کرنے کے بعد اپنے گلے پر چھری چلا دی جس سے وہ شدید زخمی ہے جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور رشتہ نہ ملنے پر اسے رنج تھا جس کی وجہ سے اس نے اسے قتل کر کے دیا ۔ریسکیو 1122ذرائع کے مطابق زخمی نوجوان کو تشویشناک حالت کے پیش نظر بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاںاسکی حالت نازک ہے۔تحصیل لودھراں کے علاقے شیخ تاری کے ڈیرہ کے قریب واقع بیوٹی سیلون میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق ایک نوجوان شخص اچانک بیوٹی سیلون میں داخل ہوا جہاں دلہن شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ ملزم نے پہلے دلہن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے یرغمال بنا لیا، جس کے باعث وہاں موجود خواتین اور عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعد ازاں حملہ آور نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلہن کا گلا کاٹ دیا۔ریسکیو اہلکاروں کے مطابق جب ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو دلہن جاں بحق ہو چکی تھی جبکہ حملہ آور نے بھی خود کو زخمی کر لیا۔یہ واقعہ اچانک پیش آیا جس نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ خوشیوں بھرا گھر لمحوں میں ماتم کدہ بن گیا اور متاثرہ خاندان غم سے نڈھال ہے۔ابتدائی تحقیقات میں واقعہ کی وجہ رشتہ سے انکار کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 568/26 بجرم 302/34 ت پ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔اہل علاقہ اور شہری حلقوں نے اس افسوسناک واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں