لودھراں(کرائم رپورٹر)لودھراں کے تھانہ سٹی اور تھانہ صدر کے علاقوں میں ایک ہی روز کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی، زیادتی کی کوشش، عفت میں خلل ڈالنے اور تشدد کے الگ الگ مقدمات درج پولیس نے متاثرہ خاندانوں کی درخواستوں پر مقدمات درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔تھانہ صدر لودھراں میں درج مقدمے کے مطابق بستی درکھانی کی رہائشی خاتون نسیم بی بی نے الزام عائد کیا کہ غلام حسین نامی شخص نے مہندی کی تقریب میں کام کے بہانے بلایا، بعد ازاں موٹر سائیکل پر ایک دکان پر لے جا کر مبینہ طور پر تشدد کیا اور زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔خاتون کے شور مچانے پر گواہان موقع پر پہنچ گئے جس پر ملزم فرار ہو گیا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔تھانہ سٹی لودھراں میں درج دوسرے مقدمے کے مطابق نیو ساندھی والا بھٹہ خشت پر مزدوری کرنے والے محمد راشد نے پولیس کو بتایا کہ اس کی اڑھائی سالہ بیٹی میرب بی بی گھر کے باہر سے اچانک لاپتہ ہوگئی۔ تلاش کے دوران بچی کی آواز فصل جوار سے آئی جہاں مبینہ طور پر قربان علی نامی شخص بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ اہل خانہ اور گواہان کو دیکھ کر ملزم فرار ہو گیا۔پولیس نے ملزم کے خلاف اغوا، زیادتی کی کوشش اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔اسی روز تھانہ سٹی لودھراں کے ایک اور مقدمے میں شبیر احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بیٹا اپنی بہنوں کو موٹر سائیکل پر گھر لے جا رہا تھا کہ راستے میں دو افراد نے انہیں روک لیا، بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ بیٹی کا اسکارف اتار کر مبینہ طور پر اس کی عزت نفس مجروح کی اور مارپیٹ کی۔ شور مچنے پر مقامی افراد جمع ہوگئے جس پر ملزمان موقع سے ہٹ گئے۔ پولیس نے نامزد ملزمان کے خلاف دفعہ 354 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔چوتھے مقدمے میں یاسر سلیم نے الزام عائد کیا کہ اس کی 10 سالہ بہن ایمان فاطمہ اور کزن مسکان کو موضع سمراء کے قریب موٹر سائیکل سوار افراد نے روک کر مبینہ تشدد کیا، بالوں سے گھسیٹا اور بعد ازاں گھر کے قریب دوبارہ حملہ کیا۔ درخواست کے مطابق بچیوں کو بچانے کے لیے آنے والی خالہ کو بھی خواتین سمیت دیگر افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مدعی نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ زمینی تنازعے کی رنجش کا نتیجہ ہے۔ پولیس نے متعدد نامزد اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔







