لاہور(سٹاف رپورٹر) لاہور کے علاقے کاہنہ نو فیروزپور روڈ پرگھرمیں قائم ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں14بچے جاں بحق،ٹیچرسمیت 6طلبہ زخمی ہوگئے۔وزیر صحت پنجاب کے مطابق حادثے میں جاں بحق بچوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے، ریسکیو حکام کے مطابق ایک خاتون ٹیچر سمیت 20 سے 25 افراد ٹیوشن سنٹر میں موجود تھے، زیادہ تر بچے کم عمر تھے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر ملی تھی، علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں سکول بھی چلتا تھا جبکہ بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کے لیے موجود تھے۔پولیس کے مطابق ٹیوشن سنٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے، واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔جاں بحق ہونے والے بچوں میں 8 سالہ عبداللہ ولد مصطفیٰ، 8 سالہ سلمان ولد وسیم، 9 سالہ عروج دختر مصطفیٰ، 8 سالہ مہنور ولد فاروق، 7 سالہ تشبیہ دختر شہزادہ، 8 سالہ فواد ولد محمد عابد، 11 سالہ ایمان فاطمہ دختر مصطفیٰ، 12 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ عروج دختر مرتضیٰ، 4 سالہ ارتضیٰ، 6 سالہ رمشا، 6 سالہ علی ولد فرمان، 8 سالہ ارحم ولد حسن علی، 7 سالہ دعا دختر گلفام اور 7 سالہ عبداللہ ولد اصغر شامل ہیں۔ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 6 بچوں کی حالت مستحکم ہے، زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضٰی، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان شامل ہیں۔حادثے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ بچے اسکول کی اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھنے آئے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام ہورہا تھا، ٹیوشن سینٹر کےگراؤنڈ فلور پر بچے پڑھ رہے تھے۔ ٹیوشن سینٹر چلانے والے 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، تحقیقات کے بعد تمام چیزیں سامنے لائی جائیں گی۔اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گھر کی چھت پر مٹی کی بھی بڑی مقدار موجود تھی، چھت گرنے پر بچے مٹی میں دب گئے۔ انیلہ ریحان نامی خاتون نے گھر میں ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا اور وہ خود ہی پڑھاتی تھی وہ بھی زخمی ہے اور گھر خستہ حال تھا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے حادثے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔انہوں نے زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کے ذمہ داران کے تعین کا حکم بھی دیا ہے۔انہوں نے صوبائی وزراء کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، صوبائی حکومت کے مطابق متاثرہ افراد کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کاہنہ میں ایک گھر کے اندر قائم ٹیوشن سنٹرمیں بچے خستہ حال چھت کے نیچے پڑھ رہے تھے۔ عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی تھیں، ان کے مطابق متعدد بچوں کو ریسکیو کر کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نجی گھر کے اندر قائم ٹیوشن سینٹر تھا، جس کے اندر حکومت کا براہ راست عمل دخل نہیں ہوتا، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح بچوں کو ملبے سے نکالنا تھی۔صوبائی وزیر کے مطابق ابتدائی طور پر 18 سے زائد بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ٹیوشن سینٹر میں تقریباً 35 بچے موجود تھے، حتمی تعداد کے حوالے سے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات یا ڈاکٹرز کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ ہیوی مشینری احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کی گئی تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے تاہم یہ نجی ملکیت میں قائم ٹیوشن سینٹر تھا اور اسی وجہ سے حکومتی نگرانی محدود تھی۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ کاہنہ میں پرائیویٹ ٹیوشن سینٹر کی چھت کمزور اور گارڈر والی تھی، جبکہ بارشوں کے باعث چھت کی مٹی کمزور ہو چکی تھی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حادثے میں 14 بچے جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے لیےمکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 14معصوم بچوں کی جانیں گئیں جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش بھی شروع کر دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بارشوں کے باعث عمارت کی چھت کمزور ہوئی، جس کے نتیجے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ریسکیو حکام نے کہا ہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے کا ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ترجمان ریسکیو کے مطابق ملبے تلے دبے 20 بچوں کو نکال لیا گیا، جن میں 14 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ 6 بچے زخمی ہوئے۔ریسکیو ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور تقریباً 20 بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، تاہم افسوسناک طور پر 14 بچوں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔







