لال سونہارا: “قوم” کی نشاندہی پر لکڑی برآمد، لاکھوں جرمانہ، جنگلات افسران محفوظ

بہاولپور(تحصیل رپورٹر) روزنامہ قوم کی نشاندہی کے بعد محکمہ جنگلات لال سونہارا کو ایک اور کارروائی کرنا پڑی۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ٹمبر مافیا کے حوالے کی گئی لکڑی بھی واپس سرکاری تحویل میں لے لی گئی جبکہ متعلقہ افراد سے 3 لاکھ 15 ہزار روپے جرمانہ بھی وصول کر لیا گیا۔لیکن دوسری جانب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری جنگلات سے قیمتی لکڑی کی مبینہ چوری ہوئی، ٹرالیاں پکڑی گئیں اور جرمانے بھی وصول کیے گئے تو جن افسران اور اہلکاروں کے زیر نگرانی یہ تمام معاملہ پیش آیا، ان کے خلاف آج تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ متعلقہ رینج افسر، فاریسٹ گارڈز اور دیگر ذمہ دار اہلکار بدستور اپنے عہدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کی تعیناتی کے حوالے سے بھی پہلے سے اعتراضات موجود تھے اور مبینہ طور پر ایک صوبائی وزیر کی جانب سے ان کی پوسٹنگ پر پابندی یا مخالفت کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں تعینات کیسے کیا گیا؟ اور اگر تعیناتی ہو بھی گئی تھی تو ان کے دائرہ اختیار سے لکڑی کی مبینہ چوری ہونے کے باوجود ان کا احتساب کیوں نہیں کیا جا رہا؟شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی صرف لکڑی پکڑنے اور جرمانہ وصول کرنے تک محدود رہی اور نگرانی کے ذمہ دار افسران سے کوئی بازپرس نہ ہوئی تو ایسے اقدامات محض نمائشی ثابت ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف کنزرویٹر فاریسٹ، سیکرٹری جنگلات پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف لکڑی چوری کے پورے نیٹ ورک بلکہ متعلقہ افسران کی ذمہ داری کا بھی تعین کریں اور غفلت یا مبینہ ملی بھگت ثابت ہونے پر سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں