ملتان(نمائندہ خصوصی)راولپنڈی میں کہوٹہ عدالت سے پیشی کے بعد واپسی پر اڈیالہ جیل کے 14 قیدیوں کے جیل وین سے فرار ہونے کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ڈیوٹی پر مامور اڈیالہ جیل کے گارڈ انچارج سمیت 5 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ان کے موبائل فونز بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ایس پی ہیڈکوارٹر کو عہدے سے ہٹا کر لاہور رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر امتیاز احمد کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے آئی جی پنجاب نے آر پی او راولپنڈی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔دوسری جانب اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدی وین سے فرار پرپنجاب بھر کی جیلوں میں ہائی الرٹ، سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئےگئے۔راولپنڈی چکیاں کہوٹہ روڈ پر حوالاتیوں کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے دوران قیدی وین سے متعدد حوالاتیوں کے فرار کے واقعے نے پنجاب بھر کی جیلوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ واقعے کے بعد ملتان سمیت صوبے کی تمام جیلوں میں سکیورٹی غیر معمولی حد تک سخت کر دی گئی ہے، جبکہ قیدیوں کو عدالتوں میں پیشی کے لیے لانے اور واپس جیل منتقل کرنے کے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب حوالاتیوں کو قیدی وین کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔ راستے میں چکیاں کہوٹہ روڈ پر وین کے اندر حوالاتیوں کے درمیان اچانک لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا۔ صورتحال پر قابو پانے اور جھگڑا ختم کرانے کے لیے جیسے ہی پولیس اہلکاروں نے وین کا دروازہ کھولا۔ بعض حوالاتیوں نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں مرچیں پھینک دیںجس کے باعث شدید افراتفری پھیل گئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق قیدی وین میں مجموعی طور پر 36 حوالاتی سوار تھے۔ افراتفری کے دوران 14 حوالاتی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے چار حوالاتیوںصائم اشتیاق، عاطف، زکریا اخلاق اور ولید عارف کو دوبارہ گرفتار کر لیا جبکہ دس حوالاتی تاحال مفرور ہیں۔پولیس کے درج مقدمے کے مطابق مفرور حوالاتیوں میں عاصم، عبدالوہاب، احتشام، عدیل عباس، ضیغم حسین، دانش، اسد رحمان، عبدالرحمان، واحد عرف وحدی اور شامیر شامل ہیں۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مشترکہ منصوبہ بندی اور مجرمانہ سازش کے تحت پولیس پارٹی پر حملہ کیا، سرکاری فرائض کی انجام دہی میں مزاحمت کی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ تھانہ سہالہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے شروع کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اس امر کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ فرار اچانک پیش آنے والا واقعہ تھا یا اس کے پیچھے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی موجود تھی۔ اسی طرح سکیورٹی انتظامات، قیدیوں کی نگرانی، قیدی وین کے آپریشنل طریقہ کار اور ممکنہ غفلت یا کوتاہی کے تمام پہلوؤں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ان معاملات پر حتمی مؤقف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔واقعے کے بعد پنجاب کی تمام جیلوں، خصوصاً ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ جیل حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کے لیے قیدیوں کی منتقلی کے دوران اضافی نفری، سخت نگرانی، بہتر تلاشی، جدید حفاظتی اقدامات اور مربوط سکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ سنگین جرائم، دہشت گردی، قتل، ڈکیتی اور دیگر خطرناک مقدمات میں ملوث ملزمان کی منتقلی کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دیا جا رہا ہے، جبکہ قیدی وینوں کی نگرانی، راستوں کی مانیٹرنگ، نفری کی تعداد اور حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو مفرور حوالاتیوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ ادارے کو آگاہ کیا جائے تاکہ انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔







