ملتان(قوم ریسرچ سیل) “قوم ریسرچ سیل” کی منفرد اور اچھوتی رپورٹ کا بڑا اثر سامنے آ گیا، چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف حکومت بالآخر حرکت میں آ گئی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے باقاعدہ کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، یاد رہے کہ اس سے قبل کسی بھی سطح پر یہ حساس اور سنگین ایشو نہیں اٹھایا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے چالیس ارب روپے کی لاگت سے نصب کی گئی فائر وال کے باوجود چائلڈ پورنوگرافی کی ویب سائٹس کیوں فعال ہیں اور بچوں کے ذہنوں و مستقبل کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے فلٹریشن کا موثر نظام کیوں ضروری ہے،’’قوم ریسرچ سیل‘‘کی جانب سے یہ جرات مندانہ اور شاندار رپورٹ شائع کیے جانے کے بعد حکومتی ایوانوں اور متعلقہ اداروں کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے سوئے ہوئے اداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ایکشن کا آغاز کیا گیا، “قوم ریسرچ سیل” کی اسی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے نے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک بڑا فیلڈ آپریشن کیا، اس حوالے سے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور نے میڈیا بریفنگ کے دوران اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی کہ چائلڈ پورنوگرافی جیسے سنگین جرم کے خلاف سخت ایکشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اے آئی سسٹمز نے ان مشکوک ملزمان کی نشاندہی کی تھی جن کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز میں بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی غیر اخلاقی مواد موجود تھا اور جن کے بیرون ملک سے بھی رابطے قائم تھے، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کے مطابق اے آئی کی اس تکنیکی نشاندہی پر فوری چھاپہ مار کر تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے متعدد موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر ڈیجیٹل آلات برآمد کر لیے گئے ہیں، ایجنسی نے ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمات درج کر کے آپریشن کا دائرہ کار مزید تیزاوروسیع کر دیا ہے، میڈیا بریفنگ میں حکام نے عزم ظاہر کیا کہ بچوں کے تحفظ کا یہ سلسلہ اب غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا، شہریوں کے مطابق قوم ریسرچ سیل کی اس بروقت رپورٹ نے اداروں کو جس طرح بیدار کیا ہے۔”قوم ریسرچ سیل” کی رپورٹ کے بعد اس حساس ترین ایشوپر اس نوعیت کی پہلی کارروائی این سی سی آئی اے کی طرف سے عمل میں لائی گئی ہے جس کوعوام کی طرف سے سراہاجارہاہے ۔مقصد ایک ہی ہے اوروہ معصوم بچوں کاتحفظ ہے جوسب اداروں وعوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔اس سے اب یہ قومی امید پیدا ہو گئی ہے کہ اس بڑے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں فائر وال کے فلٹرنگ نظام کو مزید سخت کر کے چائلڈ پورنوگرافی کی تمام ویب سائٹس کو مکمل اور مستقل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ ملک کے نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے جن کے ذہن چائلڈ پورنو گرافی کی ڈارک ویب سائٹس کے باعث مفلوج ہوچکے ہیں اوروہ بے راہروی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔







