لاہور (قوم ایجوکیشن ریسرچ سیل) روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل کی طرف سے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں سالہا سال کے ریگولرملازمین کو ترقی دینےکےبجائے ہائر اتھارٹیز کی اجازت کے بغیر ان عہدوں پر نئی بھرتیاں کرنے کی خاموش کوشش کو گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فوری طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ریگولر ملازمین کو علیحدہ علیحدہ طلب کرکے زبردستی حلف نامے لکھوانے شروع کر رکھے ہیں اور ان سے کلام پاک پر حلف لینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کسی میڈیا اور کسی صحافتی ادارے سے رابطہ نہیں کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی انتظامیہ کو اعلیٰ حکام نے طلب کرکے وارننگ دی ہے کہ وہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر بھرتیاں کیسے کر سکتے ہیں ان بھرتیوں کے عمل کو فوری طور پر روکتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ترقی کے منتظر ریگولر ملازمین کی طرف سے ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ میں ان کے کونسل اویس بھٹی نے وائس میسج پر یونیورسٹی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے موکلان کو ہراساں کر رہی ہے اور چونکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے ویمن یونیورسٹی کی انتظامیہ ان کے موکلان کو ہراساں کرکے توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اپنے واٹس ایپ پر وائس میسج میں ہائی کورٹ کے وکیل اویس بھٹی نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلے بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا وہ محتاط رہیں مگر اس کے باوجود یونیورسٹی کے ملازمین کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور میں اس لیے یہ وائس میسج دے رہا ہوں کہ امید ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ دوبارہ ایسی کسی قسم کی غیر قانونی حرکت نہیں کرے گی کیونکہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ملازمین کو بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے انہیں کہا ہے کہ وہ ایف آئی اے میں ان کے خلاف مقدمات درج کروائیں گے اور انہیں ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی آشیر واد سے یونیورسٹی کے بعض ملازمین اور طالبات کا ایک گروپ سوشل میڈیا پر مقامی سیاستدانوں اور حکومت پنجاب کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے جس کا مقامی سیاستدانوں اور حکومت پنجاب نے سخت نوٹس لیا ہے اور وارننگ دی ہے کہ اس قسم کی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روک دیا جائے۔








