ملتان (روزنامہ قوم ریسرچ سیل) قوم ڈیجیٹل اور روزنامہ قوم کے توجہ دلانے اور ریجنل پولیس آفیسر کی طرف سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد احمد پور شرقیہ کے بدنام اور ظالم ترین سود خور خاندان نے راہ فرار اختیار کر لی اور احمد پور شرقیہ کے شکاری محلہ کی رہائشی فیملی کی پانچ بیٹیوں کے جہیز کا سامان اور گھر کا زیر استعمال دیگر سامان جو کہ زبردستی سود خوری کی مد میں یہ ظالم اٹھا کر لے گئے تھے، از خود ٹرکوں میں بھر کر ان کے گھر واپس پہنچا گئے اور جو سامان اس دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا یا غائب ہوا تو اس کا شہر کے معززین کی طرف سے مسجد میں کی جانے والی پنچایت کے بعد باہمی افہام و تفہیم سے آٹھ لاکھ روپیہ سود خوروں کی طرف سے دو ماہ کے اندر اندر متاثرہ خاندان کو دینے کا وعدہ کیا گیا جس کی ذمہ داری احمد پور شرقیہ کے ایک معزز کاروباری شخصیت نے اٹھا لی۔ احمد پور شرقیہ کا یہ سود خور خاندان جس کے مرکزی سرغنہ محمد زبیر قریشی ولد محمد یاسین قریشی اور ابراہیم ولد بنوں قریشی ہے جبکہ اس کے دیگر اراکین میں حسنین ولد اسماعیل اور احمد ولد اسماعیل کے علاوہ عطاء الرحمان، ماجد مہانہ، علی ولد یاسین، اسامہ ولد فاروق ،ارسلان ولد فاروق، رضوان ولد اسلم اعوان اور دیگر افراد شامل ہیں۔ اس گروہ کے دو افراد نے خان پور سے ایک بچہ سود خوری کے عوض اغوا کر لیا تھا اور پھر بعد میں دو کروڑ روپیہ بھتہ مانگا تھا مگر بہاولپور پولیس اور رحیم یار خان پولیس کے مشترکہ آپریشن میں اس بچے کو نہ صرف بازیاب کرا لیا گیا بلکہ اغوا کنندگان جو کہ اس سود خور مافیا کے قریبی رشتہ دار تھے وہ بھی پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔ شکاری محلہ احمد پور شرقیہ کی تسلیم بی بی نے ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور اور ڈی پی او بہاولپور کا نام الگ الگ درخواستوں میں ان سود خوروں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ سود خور ان کے گھر پر حملہ اور ہو کر ان کی چار بیٹیوں کا جہیز کا سامان اٹھا کر لے گئے ہیں جن میں چار جوڑی کانوں کی بالیاں چار انگوٹھیاں ایل سی ڈیز فرج دو نئے اور دو دیوار میں نصب اے سی جہیز کے لیے رکھے گئے کہ کمبل رضائیاں اور برتن وغیرہ بھی اٹھا کر لے گئے اور جو گھر میں سامان بچا اسے توڑ پھوڑ دیا گیا جبکہ دروازے اور الماریوں کو بھی توڑ دیا گیا۔ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل پر سود خوروں کے اس ظلم کی تفصیلات شائع اور آن ایئر ہونے کے بعد آر پی او بہاولپورنے احمد پور شرقیہ پولیس کو فوری مداخلت کی ہدایات دی جس پر پولیس نے ان سود خوروں پر زمین تنگ کر دی اور انہیں سود خوری کی مدد میں غنڈہ گردی سے دن دہاڑے اٹھایا گیا سامان باقاعدہ تحریر کے بعد واپس کرنا پڑا۔ قوم کے دفتر میں چنی گوٹھ کے رہائشی ایک شخص نے فون کرکے بتایا کہ انہوں نے علاقے بھر میں اپنے ٹاؤٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو لوگوں کو ان سے سود لینے کی طرف راغب کرتے ہیں اور چنی گوٹھ کے نواحی علاقے کے ایک شخص کو انہوں نے سود خوری میں پھنسایا اور جب وہ پیسے نہ دے سکا تو یہ لوگ اس کی انتہائی کمسن طالبہ بیٹی کا زبردستی رشتہ مانگنے لگ گئے کہ اس کی شادی ہمارے ایک گروپ ممبر کے ساتھ کر دو جس کی عمر 55 سال کے قریب تھی۔ بتایا گیا ہے ایک سابق رکن اسمبلی نے مداخلت پر اس خاندان کی جان اس سود خور گروہ سے چھڑائی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ اس گروہ نے ابھی تک شیخ احتشام سے سود کی مد میں زبردستی ایک رکشہ، ایک فرج اور ایک ایل سی ڈی خرید کر اسے سستے داموں مارکیٹ میں بیچ کر اپنی قسط پوری کی ہے اور اب شیخ احتشام رکشہ اور دیگر اشیا کی بھی قسطیں اتار رہا ہے۔ سود خوروں نے اس سے حاصل کردہ دو چیک شجاع آباد اور ملتان میں فروخت کر دیے ہیں۔ روزنامہ قوم کی طرف سے شیخ احتشام سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی مگر بات نہ ہو سکی جس پر اس کے ایک قریبی دوست نے تمام صورتحال سے روزنامہ قوم کو آگاہ کیا اور بتایا کہ پنچایت میں فیصلے کے باوجود یہ سود خور احتشام کو بلیک میل کر رہے ہیں اور انہوں نے ابھی تک دیگر بہت سے لوگوں کو اسی طرح عاجز کر رکھا ہے حتیٰ کہ بعض لوگ انہیں سود دیتے دیتے مکمل طور پر کنگال ہو چکے ہیں مگر ان کی ہوس پوری ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ مذکورہ نوجوان نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ یہ سود خور گروہ شیخ احتشام سے 25 لاکھ کے عوض 82 لاکھ روپیہ وصول کر چکا ہے اور پھر بھی جان چھوڑنے کو تیار نہیں تھا مگر روزنامہ قوم کے بے نقاب کرنے پر شہر بھر میں ان کی خاصی بدنامی ہوئی ہے۔ روزنامہ قوم کو بتایا گیا کہ ان سود خوروں کو پولیس اور نچلے درجے کے عدالتی اہلکاروں کا مکمل تعاون اور سرپرستی حاصل ہے اور جلد ان عدالتی اہلکاروں اور پولیس والوں کے اس سود خور گینگ کے ساتھ رابطوں کے ثبوت بھی روزنامہ قوم کو فراہم کر دیے جائیں گے۔







