ملتان (وقائع نگار)فیس لیس کسٹمز کا فیس بے نقاب، کراچی اپریزمنٹ پر بڑے سوالات، ڈرائی پورٹس سے آنے والی GDs پر مبینہ براہِ راست رابطوں کا انکشاف، موبائل نمبرز کا استعمال کس کی اجازت سے کیا جا رہا ہےجس نظام کا مقصد انسانی مداخلت ختم کرنا تھا، وہاں رابطوں کے دروازے کیسے کھلے اعلیٰ حکام سے فوری فرانزک آڈٹ اور غیر جانب دار انکوائری کا مطالبہپاکستان کسٹمز میں شفافیت، انسانی مداخلت میں کمی اور امپورٹرز کو سہولت دینے کے لیے متعارف کرایا گیا فیس کیا کسٹم اسیس منٹ سسٹم ایک بار پھر سخت سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔محکمہ کسٹمز کے ایک ملازم کی جانب سے اعلیٰ حکام کو پیش کی گئی تحریری شکایت نے فیس لیس اپریزمنٹ کے عملی نظام پر ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کے جوابات محض دفتری وضاحتوں سے نہیں بلکہ ریکارڈ، ڈیجیٹل ڈیٹا اور غیر جانب دارانہ انکوائری سے سامنے آ سکتے ہیں۔ایف بی آر نے دسمبر 2024 میں کراچی سے کسٹم فیسلیس اسیسسمنٹ سسٹم نافذ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد انسانی رابطے کو کم کرنا اور کلیئرنس کے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور مؤثر بنانا تھا۔لیکن اب بنیادی سوال یہ ہےاگر اپریزمنٹ فیس لیس ہے تو پھر براہِ راست رابطے کا راستہ کہاں سے آ رہا ہے فیس لیس نظام میں “چہرہ” کون دکھا رہا ہےتحریری شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ڈرائی پورٹس سے ایگزامینشن کے بعد کراچی فیس لیس اپریزمنٹ کو بھیجی جانے والی GD کے کال ڈاکومنٹ پر متعلقہ اپریزمنٹ اسٹاف کا موبائل نمبر درج کیا جاتا ہے۔اگر یہ عمل حقیقت میں جاری ہے تو سوال انتہائی سنگین ہےکیا فیس لیس اپریزمنٹ کے تحت متعلقہ افسر کا ذاتی موبائل نمبر امپورٹر یا کسٹمز ایجنٹ تک پہنچنا SOP کا حصہ ہےاگر نہیں تو یہ نمبر کس کے حکم یا اجازت سے درج ہوتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے توکیا ان رابطوں کا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ، مانیٹرنگ یا آڈٹ موجود ہےیہ وہ سوالات ہیں جنہیں نظرانداز کرنا پورے فیس لیس نظام کی روح کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔تحقیقاتی سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی GD پر درج موبائل نمبر کے ذریعے امپورٹر یا ایجنٹ متعلقہ اپریزمنٹ اسٹاف سے براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے تو پھر فیس لیس نظام اور روایتی نظام میں عملی فرق کیا رہ جاتا ہےکیا صرف افسر اور امپورٹر کا ایک ہی کمرے میں نہ بیٹھنا فیس لیس سسٹم کہلا سکتا ہے یا فیس لیس کا اصل مطلب یہ ہے کہ فیصلہ شخصی رابطے سے نہیں بلکہ نظام، ریکارڈ، قانون اور ڈیٹا سے ہویہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر اب کسٹمز کے پورے نظام کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔شکایت میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر امپورٹر یا ایجنٹ متعلقہ اپریزمنٹ سے مطمئن نہ ہو یا رابطہ نہ ہو سکے تو متعلقہ ڈرائی پورٹ پر Review of Appraisement کی درخواست کے ذریعے معاملہ دوبارہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اب تحقیقاتی سوال یہ ہےفیس لیس نظام میں کتنی GDs Review میں جا رہی ہیںکتنے فیصلے Review کے بعد تبدیل ہوتے ہیںکن ڈرائی پورٹس سے Review کی شرح زیادہ ہےکن Appraisers کے فیصلے بار بار Review میں چیلنج ہوتے ہیںاور کیا ایف بی ار نے کبھی اس پورے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے اگر یہ ڈیٹا دستیاب ہے تو اسے سامنے لانے میں کیا رکاوٹ ہے ایف بی آر کے اپنے کاغذات میں بھی integrity کی جانچ زیرِ بحث ہے۔







