فیس لیس کسٹمز سسٹم میں بڑا سکینڈل، پرنسپل اپریزر پر رشوت،بھتہ خوری الزامات

ملتان (وقائع نگار)فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم میں بڑا اسکینڈل، پرنسپل اپریزر پر لاکھوں کی رشوت و بدعنوانی کے سنگین الزامات ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے زیرِ انتظام فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم، جو شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، ایک اعلیٰ افسر کی مبینہ بدعنوانی کی وجہ سے شدید تنازعہ کی زد میں آ گیا ہے۔ سینٹرلائزڈ اسیسمنٹ یونٹ (سی اے یو) فیس لیس کراچی میں تعینات پرنسپل اپریزر امتیاز خان کے خلاف ایف بی آر کے چیئرمین کو باضابطہ شکایت موصول ہوئی ہے جس میں ان پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو بھتہ خوری اور ہراسانی کا ذریعہ بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ فیس لیس نظام کے تحت جی ڈیز کو 24 گھنٹوں کے اندر پروسیس کیا جانا چاہیےلیکن امتیاز خان کی تعیناتی کے دوران فائلوں کو جان بوجھ کر روکا جاتا ہے۔ وہ درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس کو ویب او سی (WeBOC) سسٹم پر دستاویزات اپ لوڈ کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر دفتری اوقات کے بعد ان سے رابطہ کر کے رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔شکایت میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امتیاز خان کے مطالبات وقت کے ساتھ بے باک تر ہوتے گئے ہیں۔ ان میں ملتان کے ٹکٹ، عمرہ سفر کے اخراجات، اور براہِ راست نقد رقوم کا مطالبہ شامل ہے۔ شکایت کے ساتھ ٹکٹوں کی نقول بھی بطور ضمیمہ منسلک کی گئی ہیں۔مزید برآں، امتیاز خان دھمکی اور بلیک میلنگ کا ایک منظم طریقہ کار اپناتے ہیں۔ وہ درآمد کنندگان کے این ٹی این (NTN) اور ایجنٹس کے سی ایچ اے ایل (CHAL) نمبرز نوٹ کرتے ہیں اور انہیں دھمکی دیتے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو مستقبل میں ان کی کھیپوں کو انفورسمنٹ یا پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (پی سی اے) کے ذریعے روکا جائے گا۔ شکایت میں امتیاز خان کی ذاتی ڈائری کے اسکرین شاٹس اور سفری اخراجات کے مطالبات کے ریکارڈ بھی بطور ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں