علی پور (نامہ نگار،نمائندہ قوم) تحصیل علی پور کے سیلاب متاثرین کیلئے اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی امداد کو مقامی بااثر شخصیات کی جانب سے شیرمادر سمجھ کر لوٹنے کا انکشاف ہوا ہے حقیقی متاثرین کی بجائے غیر متاثرہ علاقے کے غیرمستحق لوگوں کو سیاسی مقاصد کیلئے نوازا گیا۔ امداد حاصل کرنے والوں کی فہرست سامنے آنے پر سیلاب متاثرین کا حکومت پاکستان سے بعد از تحقیقات ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ تفصیل کے مطابق تحصیل علی پور میں گزشتہ سال آنے والے ہولناک سیلاب متاثرین کیلئے دنیا بھر سے حکومتی اور نجی شعبوں کی جانب سے اربوں روپے کی امداد اور بحالی کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء پہنچی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس امداد کا متاثرین سیلاب کو عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ کئی نان رجسٹرڈ خود ساختہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کاغذی این جی اوز اور کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے سڑک چھاپ لوگوں کے کروڑ پتی بننے کی کہانیاں تحصیل بھر میں زبان زد عام ہیں۔ اس حوالے سے انتہائی قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ یو این ایچ سی آر کی جانب سے تحصیل علی پور کی سیلاب سے شدید متاثرہ یونین کونسلوں خانگڑھ دوئمہ لتی سیت پور بیٹ ملانوالی گھلواں دوئم اور صرف پندرہ فیصد ڈوبنے والی گھلواں اول سمیت مجموعی طور چھ یونین کونسلز کے چھ ہزار سیلاب متاثرہ خاندانوں کیلئے امدادی سامان فراہم کیا گیا جس کی مجموعی مالیت پچاس کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے فراہم کئے جانے والے سامان میں اعلیٰ کوالٹی کا خیمہ، ہیوی کچن ،سٹیل سیٹ ،کمبل، بالٹیاں، پلاسٹک شیٹس سمیت دیگر گھریلو اشیاء شامل ہیں جس کی مالیت فی خاندان ایک لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ تحصیل علی پورمیں یہ سامان رہنما فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان نامی این جی او کی معاونت سے پہنچایا گیا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اس این جی او کے مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ملازم وقاص علی نامی شخص کا کروڑوں روپے مالیتی سامان کو فراڈ سیلاب متاثرین کو دلوانے میں نمایاں کردار ہے جوکہ اس نے گھلواں یونین کونسل کے ایک سابقہ چیئرمین کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ سابقہ چیئرمین ایم ایس ٹی کیو ہسپتال علی پور کا قریبی رشتہ دار بھی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ یونائیٹڈ نیشن فنڈز فار پاپولیشن ایکٹی ویٹی جس کا مخفف یو این ایف پی اے نے سیلاب متاثرین کے ڈیٹا تک رسائی کے لئے محکمہ ہیلتھ ضلع مظفرگڑھ سے رابطہ کیا انہوں نے ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال علی پور ڈاکٹر غلام پنجتن گھلو کے ذمہ لگایا کہ ان کو معلومات فراہم کی جائیں تاہم محکمہ صحت کے دونوں افسران کی لاپرواہی یاغفلت کہیں کہ جب فہرست مرتب کی گئی تو ٹی ایچ کیو ہسپتال کے شعبہ آئی ٹی کے ملازم نے انتہائی دیدہ دلیری اور سزا جزا کے خوف سے بالاتر ہوکر موضع گھلواں اول جس کا سیلاب سے متاثرہ علاقہ صرف دس سے پندرہ فیصد بنتا ہے اس کے تین ہزار کے لگ بھگ غیرمستحق خاندانوں کے نام فہرست میں اقرباء پروری کرتے ہوئے شامل کر دیئے امدادی سامان حاصل کرنے والے چھ ہزار خاندانوں کی سامنے آنے والی فہرست میں واضح طور پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر چھ یونین کونسلز میں فی یونین کونسل ایک ہزار مقامی خاندانوں میں امدادی سامان تقسیم کیا جانا تھا لیکن طریقہ واردات یہ ڈالا گیا کہ نصف کے قریب تو اس حقیقی یونین کونسل کے مقامی خاندانوں کو نوازا گیا جن میں اکثریت کو سیاسی بنیادوں پر امداد دی گئی جبکہ ہر یونین کونسل کے کوٹے سے نصف خاندان موضع گھلواں اول کےشامل کئے گئے جنھیں اقرباء پروری سیاسی اور دیگر شرمناک وجوہات کی بنا پر نوازا گیا حد تو یہ ہے کہ موضع گھلواں اول کی پوری پوری بستیاں سیت پور خانگڑھ دوئمہ لتی بیٹ ملانوالی کی فہرست میں شامل کردی گئی جبکہ گھلواں اول اور دوئم میں جن بستیوں کو نوازا گیا انہیں بستیوں کا نام خانگڑھ دوئمہ لتی بیٹ ملانوالی میں بھی دوبارہ شامل کردیا گیا۔ خانگڑھ دوئمہ کی فہرست میں مڈوالہ بوبرا بستی گھلواں حسن والہ ٹبہ وغیرہ کو بھی شامل کیا گیاان اکثر بستیوں میں سرے سے سیلاب نہیں آیا پچاس کروڑ روپے مالیت کا امدادی سامان دس روز قبل یکم تا 7مئی 2026تک متعلقہ یونین کونسلز میں مقامی بااثر شخصیات کے ڈیروں پر تقسیم کیا گیا سرکاری اعدادوشمار اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یونین کونسل خانگڑھ دوئمہ سیلاب میں سوفیصد ڈوبی مقامی رہائشی سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ابھی تک اس کے کئی علاقوں میں حالات انتہائی سنگین ہیں گزشتہ روز یونین کونسل خانگڑھ دوئمہ کے مقامی سیلاب متاثرین نے کوٹلہ بخش کے مقام پر اقوام متحدہ کی جانب سے ان کے لئے بھیجے گئے امدادی سامان کی خورد برد کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کمشنر ڈی جی خان ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا ہے کہ ہمارا حق غیرمستحق بیرونی سفارشی عناصر میں تقسیم کیا جانا انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔دوسری جانب سول سوسائٹی سے وابستہ افراد ایازقادر ،احمر مزمل، لیاقت علی، اسماعیل خان، رمضان خان، ملک قاسم مہتاب خالد مختیار حسین ساون خان جہانگیر گوپانگ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحصیل علی پور کے سیلاب زدہ عوام کے نام پر آنے والی اربوں روپے مالیت کے فنڈز کا شفاف آڈٹ کرائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے خورد برد میں ملوث عناصر کے خلاف بعداز تحقیقات سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ جن یونین کونسلوں میں وہاں کی مقامی بستیوں کے نام درج کئے گئے ہیں ان میں بھی وسیع پیمانے پر فراڈ ہوا ہے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس ظلم و زیادتی کے خلاف وہ اعلی حکام کو تحریری درخواست بھی دے رہے ہیں رابطہ کرنے پر رہنما فیلی پلاننگ نامی این جی او مظفرگڑھ کے انچارج وقاص علی نے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے محکمہ صحت ڈپتی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر علی پور سے رابطہ کیا انکی جانب سے فہرست دی گئی کمی بیشی ہوئی ہوگی۔ یہ پہلا مرحلہ تھا دوسرا اور تیسرے مرحلے کے لئے آپ نام دیں ان کو ترجیح دی جائے گی۔







