تازہ ترین

جامعہ زکریا کی تقسیم پر اساتذہ، عملے کی احتجاجی مہم، زرعی یونیورسٹی کمزور اور لورینکنگ قرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے سرکاری جامعات کے انتظامی ڈھانچے میں مبینہ ردوبدل کے بعد جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی اور تاریخی جامعہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو تقسیم کرنے کی منظوری نے ایک نئے تعلیمی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ایگریکلچر فیکلٹی کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان جبکہ انجینئرنگ فیکلٹی کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد جامعہ کے اساتذہ، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور ملازمین سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ جامعہ کے اساتذہ نے اس فیصلے کو BZU کے حصے بخرے کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے شدید ترین ردعمل دیا ہے اور یونیورسٹی کے مختلف گروپس اور سوشل میڈیا پر احتجاجی پوسٹرز شائع کیے گئے جن پر جلی حروف میں درج ہے:’’جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی تقسیم نامنظور، نامنظور‘‘،’’زکریا یونیورسٹی کی تقسیم نامنظور‘‘، ’’تعلیم دشمن فیصلے نامنظور‘‘، ’’جامعات کو سیاسی مداخلت سے بچاؤ‘‘،’’ملتان کا تعلیمی مستقبل برباد نہ کرو‘‘ اور’’ BZU کو تقسیم نہیں، مضبوط اور خودمختار بنانا ہے۔‘‘ اساتذہ اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اپنی توپوں کا رخ خاص طور پر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کی طرف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ ابھی اپنی ابتدائی عمر میں ہے، نہ اس کی کوئی نمایاں بین الاقوامی رینکنگ موجود ہے اور نہ ہی یہ تحقیقی میدان میں بی زیڈ یو کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک مستحکم، تاریخی اور عالمی سطح پر پہچان رکھنے والی یونیورسٹی کے شعبوں کو ایک کمزور اور لو رینکنگ ادارے کے حوالے کرنا بدترین تعلیمی ناانصافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر زرعی یونیورسٹی انتظامی اور تعلیمی مسائل کا شکار ہے تو اس کا حل کامیاب ادارے کو تقسیم کرنا کیوں بنایا جا رہا ہے؟احتجاجی پوسٹرز میں واضح طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ زکریا یونیورسٹی کے حصے بخرے کرنے کا منصوبہ فوری ختم کیا جائے، تعلیمی معیار اور رینکنگ کو نقصان پہنچانے کے بجائے اصلاحات کی جائیں، طالب علموں، اساتذہ اور ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور زکریا یونیورسٹی کے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹس کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں ضم کرنا کبھی قبول نہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی اصلاحات چاہتی ہے تو کمزور جامعات کو مضبوط کیا جائے، نہ کہ ایک کامیاب ادارے کے اثاثے اور فیکلٹیز چھین کر انہیں بانٹ دیا جائے۔ احتجاجی مہم میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ تقسیم جنوبی پنجاب کے 50 سالہ علمی ورثے پر حملہ ہے۔ پوسٹرز میں درج نعروں کے مطابق’’یہ تقسیم ہمارے لیے خطرناک کیوں؟‘‘کیونکہ اس سے’’بین الاقوامی رینکنگ پر منفی اثرات‘‘،’’طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ‘‘،’’انتظامی اور مالی بحران میں اضافہ‘‘ اور’’تعلیمی معیار میں شدید گراوٹ‘‘ پیدا ہوگی۔ اساتذہ نے کہا کہ ہمارا نعرہ ہے: زکریا یونیورسٹی تقسیم نہیں، تعلیمی بہتری چاہیے جبکہ طلبہ نے کہاکہ’’نہ تقسیم ہوگی، نہ تقسیم ہوگی‘‘۔ اساتذہ نے پوسٹرز پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیم میں سیاست نہیں چاہیے، تعلیمی خودمختاری کو سیاست اور بیوروکریسی سے آزاد رکھا جائے اور تعلیمی اداروں پر سیاسی قبضہ نامنظور۔ ان کے مطابق حکومت بیوروکریٹک فیصلوں کے ذریعے جامعات کی خودمختاری ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب کا تعلیمی ڈھانچہ متاثر ہوگا۔ پوسٹرز میں BZU کی زرعی، انجینئرنگ اور ویٹرنری فیکلٹیز کو جامعہ کی طاقت اور فخرقرار دیتے ہوئے ان کے تمام اثاثے، لیبارٹریاں، ریسرچ سینٹرز اور شعبہ جات یونیورسٹی کے کنٹرول میں رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان شعبوں میں ایگریکلچر بزنس مینجمنٹ، ایگریکلچر اکنامکس، فصلات، پلانٹ بریڈنگ، پلانٹ پیتھالوجی، سوائل اینڈ انوائرمنٹل سائنسز، زرعی توسیع، ویٹرنری میڈیسن، اینیمل بریڈنگ، اینیمل نیوٹریشن، فوڈ پروسیسنگ، ایگریکلچر انجینئرنگ، پاور اینڈ مشینری، سول انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر انجینئرنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور رینیوایبل انرجی سمیت درجنوں پروگرام شامل ہیں جن میں ہر سال سینکڑوں طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔ اساتذہ نے اپنے احتجاجی پوسٹرز میں اعداد و شمار بھی پیش کیے اور دعویٰ کیا کہ زرعی یونیورسٹی کے شعبہ جات کی تعداد زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ جات سے بہت کم ہیں، اس لیے ایک بڑی اور کامیاب جامعہ کو کمزور کرنے کے بجائے چھوٹے ادارے کو بطور کیمپس BZU میں ضم کیا جانا چاہیے۔ احتجاجی نعروں میںکامیاب یونیورسٹی کو کمزور نہ بناؤ، ملتان کو بخش دو، ملتان کے عوام کی آواز سنو، تعلیم دشمن سیاست نامنظور، تعلیم بچاؤ، سیاست ہٹاؤاور ناکام ہوتی یونیورسٹی کا بوجھ کامیاب یونیورسٹی پر نہ ڈالیںجیسے جملے نمایاں رہے۔ اساتذہ اور ملازمین نے اعلان کیا کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اپنے ادارے، اپنے حقوق اور اپنے تعلیمی مستقبل کے لیے لڑیں گے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی سے نظرثانی نہ کی تو جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ میں شدید احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہےجو نہ صرف تعلیمی ماحول بلکہ صوبے کی اعلیٰ تعلیمی پالیسی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں