فخر زمان اور صائم ایوب آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر، پی سی بی کی اپ ڈیٹ جاری-فخر زمان اور صائم ایوب آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر، پی سی بی کی اپ ڈیٹ جاری-علی پور: اقوام متحدہ کی 50 کروڑ سیلاب امداد میں لوٹ مار، غیر مستحقین مستفید متاثرین محروم-علی پور: اقوام متحدہ کی 50 کروڑ سیلاب امداد میں لوٹ مار، غیر مستحقین مستفید متاثرین محروم-لودھراں کی 70 یونین کونسلوں میں فیک بلنگ اور بوگس سکیموں سے کروڑوں روپے کا فراڈ-لودھراں کی 70 یونین کونسلوں میں فیک بلنگ اور بوگس سکیموں سے کروڑوں روپے کا فراڈ-تھیسز کرنا دشوار، خاتون ٹیچر کی پروپوزل، پرنٹنگ، پبلشنگ، مراحل پر طالبات سے وصولیاں-تھیسز کرنا دشوار، خاتون ٹیچر کی پروپوزل، پرنٹنگ، پبلشنگ، مراحل پر طالبات سے وصولیاں-جنوبی پنجاب میں انجینئرنگ ریسرچ کا فروغ، جامعہ زکریا کو مکینیکل پی ایچ ڈی کی اجازت-جنوبی پنجاب میں انجینئرنگ ریسرچ کا فروغ، جامعہ زکریا کو مکینیکل پی ایچ ڈی کی اجازت

تازہ ترین

تھیسز کرنا دشوار، خاتون ٹیچر کی پروپوزل، پرنٹنگ، پبلشنگ، مراحل پر طالبات سے وصولیاں

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی جامعات میں مبینہ اکیڈمک کرپشن، ریسرچ پبلشنگ ، جعلی جرنلز اور سپروائزری اختیارات کے ناجائز استعمال کے انکشافات کے بعد اب ایک خاتون ٹیچر کے حوالے سے ایک اور نہایت حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایک خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نہ صرف ریسرچ پیپر پبلشنگ کے نام پر طالبات سے بھاری رقوم وصول کرتی ہیں بلکہ وہ اپنی ہی طالبات سے تھیسز پروپوزل کی تیاری کے نام پر دو، دو ہزار روپے وصول کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ متعدد طالبات نے دعویٰ کیا کہ خاتون ٹیچر مبینہ طور پر صرف چھ صفحات پر مشتمل تھیسز پروپوزل کی پرنٹنگ کے نام پر بھی ایک ہزار روپے وصول کرتی ہیں حالانکہ اصل پرنٹنگ لاگت اس رقم کے مقابلے میں نہایت معمولی ہوتی ہے۔ طالبات کے مطابق انہیں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر وہ ’’ہدایت‘‘ کے مطابق رقوم ادا نہ کریں تو ان کے تحقیقی معاملات، سپروژن یا پروپوزل کی منظوری میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ حیران کن طور پر مذکورہ خاتون ٹیچر ایک ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ذرائع کے مطابق ان کی ماہانہ تنخواہ تقریباً ڈھائی لاکھ روپے بتائی جاتی ہےمگر اس کے باوجود طالبات سے پروپوزل تیاری اور چند صفحات کی پرنٹنگ کی مد میں چند ہزار روپے وصول کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال کو اکیڈمک حلقے علم کی تجارت اور طالبات کے استحصال کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک ایسا خطرناک رجحان ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات کو ڈگری، سپروژن، تھیسز اور ریسرچ کے نام پر نفسیاتی دباؤ اور مالی استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق جامعات میں اس قسم کے الزامات کا بار بار سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے بعض شعبوں میں احتساب کا نظام انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ ایک خاتون ٹیچر کے خلاف اس سے قبل بھی سنگین نوعیت کی شکایات سامنے آ چکی ہیںجن میں مبینہ طور پر ریسرچ پیپر پبلشنگ کے نام پر پی ایچ ڈی اور ایم فل طالبات سے ہزاروں روپے وصول کرنے، بغیر تحقیقی کام کے نام شامل کروانے، جعلی یا غیر معروف جرنلز میں پیپر شائع کروانے اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام ایک اپلائیڈ سائیکالوجی جرنل میں شامل کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ شکایات کے مطابق ایک ہی ریسرچ پیپر کی مد میں ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے تک اکٹھے کیے گئے جبکہ پیپر میں ناموں کی ترتیب بھی ادائیگیوں کے مطابق رکھی گئی۔ مزید یہ کہ خاتون ٹیچر کے بھائی اور ان کی ایک کولیگ کے نام بھی مبینہ طور پر بغیر مناسب تحقیقی کردار کے شامل کیے گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں