ملتان ( قوم ریسرچ سیل) پنجاب میں کپاس کی فصل جو کبھی صوبے کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل اور تشویشناک زوال کا شکار ہے، ہر سال بحالی کے بلند بانگ دعوے، سیمینارز اور میڈیا پر سرکاری بیانات تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں لیکن زمینی حقائق ایک بالکل مختلف اور سنگین تصویر پیش کر رہے ہیں۔ زرعی ماہرین اور کاشتکار حلقوں کے مطابق اس بحران نے نہ صرف پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ کپاس کے پورے انتظامی، تحقیقی اور پالیسی ڈھانچے کی اہلیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کپاس کے کرتا دھرتا چند بااثر ناموں کے ذاتی مفادات اور مخصوص نجی سیڈ کمپنیوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث پنجاب میں کپاس کی پیداوار اور کاشت کا رقبہ مسلسل کمی کا شکار رہا ہے، جس سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ ایک ہی مخصوص گروہ کے پالیسی وژن اور انتظامی تسلسل کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گھنائونی انتظامی ناکامی ہے۔ اعداد و شمار اس تباہی کی گواہی دیتے ہیں کہ سال 2023 میں پنجاب میں کپاس کی کاشت کا ہدف 50 لاکھ ایکڑ تھا تاہم اصل رقبہ 33 سے 40 لاکھ ایکڑ کے درمیان رہا اور پیداوار محض 33.66 لاکھ گانٹھ تک محدود رہی۔یہ صورتحال 2024 میں مزید ابتر ہوئی جب رقبہ کم ہو کر 32.20 لاکھ ایکڑ اور پیداوار 27.17 لاکھ گانٹھ رہ گئی جبکہ 2025 میں بھی یہ منفی رجحان برقرار رہا اور 37 لاکھ ایکڑ کے دعووں کے برعکس پیداوار مزید گر کر صرف 26 لاکھ گانٹھوں تک آ پہنچی۔ اس کے برعکس سندھ کی مثال سامنے ہے جہاں گزشتہ سیزن میں محض ساڑھے بارہ لاکھ ایکڑ سے 30 لاکھ گانٹھیں حاصل کی گئیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پنجاب میں پیداوار کی مسلسل گراوٹ صرف موسمی یا زرعی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی سازی کے کلیدی کرداروں،تحقیقی اداروں کی ترجیحات اور عملدرآمد کے نظام میں موجود بنیادی بددیانتی اور کمزوریوں کا شاخسانہ ہے۔ کاشتکار حلقوں میں یہ تشویش عام ہے کہ جب اعلیٰ تعلیمی و زرعی جامعات اپنے اصل تدریسی و تحقیقی فرائض سے روگردانی کرکے کپاس کے تحقیقی اداروں میں بے جا مداخلت شروع کر دیں اور نجی سیڈ کمپنیوں کے مالکان سے گٹھ جوڑ کرکے محض اپنی مشہوری و مفادات کی خاطر ’گھس بیٹھیوں‘ کی طرح اپنا نام نہاد کردار منوانے پر مصر ہوں تو پھر کپاس کے زوال کا سارا ملبہ موسمی حالات پر ڈالنےکے بجائے ان بااثر کرداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے۔ ان عناصر کا سخت احتساب ہونا چاہیے کہ کپاس کی ترقی کے نام پر سالہا سال سے ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز اور تحقیقی منصوبوں کے باوجود کپاس کے میدان میں ایسی کوئی بڑی پیش رفت کیوں سامنے نہیں آ سکی جو فی ایکڑ پیداوار میں واضح اضافہ کر سکتی بلکہ اس کے برعکس سرکاری اداروں کے بجائے نجی مالکان کے بزنس کو فروغ دے کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جس کے لیے ان تمام منصوبوں کا فوری اور شفاف آڈٹ ناگزیر ہے۔ کپاس کے کاشتکاروں کا مؤقف ہے کہ کپاس کی جدید بیج سازی کے نام پر جن جامعات اور شخصیات کو خطیر وسائل فراہم کیے گئے، ان کی ترجیحات کسان کی عملی بہتری کے بجائے نجی مفادات اور محدود سرگرمیوں تک سمٹ کر رہ گئیں، جس کے نتیجے میں وہ خطہ جو کبھی ملک کی 70 فیصد سے زائد کپاس پیدا کرتا تھا اور جہاں ایک دہائی قبل 70 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں، اب محض 26 لاکھ گانٹھوں پر سمٹ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بحران کو محض موسمیاتی تبدیلی یا مہنگے مداخل تک محدود کرنا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے کیونکہ اصل خلا پالیسی سازوں کی نجی وابستگیوں اور اداروں کے غلط استعمال میں چھپا ہوا ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ محض رسمی اعلانات سے آگے بڑھ کر ان تمام چھپے ہوئے کرداروں کا احتساب یقینی بنایا جائے جن کے فیصلوں نے پنجاب کی کپاس کی چاندی مانی جانے والی فصل کا بیڑا غرق کیا بصورت دیگر یہ بحران پورے زرعی نظام کے زوال کی علامت بن جائے گا۔







