جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

معلومات تک رسائی کا حق بدعنوانی کے خلاف قلعہ ہے:جسٹس اطہر من اللہ

ستائیسویں آئینی ترمیم: جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس کو خط — “جو جج سچ بولتا ہے، وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے”

اسلام آباد: ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ اور عدالتِ عظمیٰ کے سابق 38 لاء کلرکس نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر عدلیہ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جسٹس اطہر من اللہ کا 8 اکتوبر کو تحریر کردہ خط منظرِ عام پر آگیا ہے، جس میں انہوں نے عدلیہ کے تاریخی کردار اور اس کے اندرونی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
اپنے خط میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ “سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی، عوام کے ساتھ نہیں”۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی کو عدلیہ کا ناقابلِ معافی جرم قرار دیا اور کہا کہ “بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جب کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والا رویہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “اسلام آباد ہائی کورٹ کو عوامی اعتماد حاصل ہونے پر نشانہ بنایا گیا، اور یہ حقیقت عدلیہ کے ضمیر پر بوجھ ہے۔ ہم سب سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں۔”
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے خط میں یہ بھی تحریر کیا کہ “بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے، اور جو جج سچ بولتا ہے، وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے۔ جو جج نہیں جھکتا، اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔”
سابق لاء کلرکس کا خط
سپریم کورٹ کے 38 سابق لاء کلرکس نے بھی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ “آج عدلیہ کو 2007 سے زیادہ سنگین خطرات لاحق ہیں۔ آپ کا ردعمل یہ طے کرے گا کہ آپ تاریخ میں سپریم کورٹ کے محافظ کے طور پر جانے جائیں گے یا اسے دفن کرنے والے کے طور پر۔”

شیئر کریں

:مزید خبریں