ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف ساہیوال کی جانب سے رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات جیسے اہم ترین سٹیچیوٹری عہدوں کے لیے جاری کیے گئے اشتہار کے مندرجات کا جائزہ لینے والی روزنامہ قوم کی ریسرچ ایجوکیشن سیل کی ٹیم کے مطابق اشتہار میں شامل کئی شرائط نہ صرف قانونی اور انتظامی ابہام کا شکار ہیں بلکہ یونیورسٹی کے اپنے قانونی ڈھانچے، گورننس سسٹم اور قواعد و ضوابط کی عملداری پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی آف ساہیوال نے اپنے قیام کے ابتدائی مرحلے میں عارضی طور پر پنجاب یونیورسٹی کا کیلنڈر اور قواعد و ضوابط اختیار کیے تھے۔ اس منظوری کے ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ یونیورسٹی 60 روز کے اندر اپنے مستقل سٹیچیوٹس اور قواعد تشکیل دے گی تاکہ ادارے کے انتظامی اور قانونی معاملات کو مستقل بنیادوں پر چلایا جا سکے۔ تاہم برسوں گزر جانے کے باوجود یونیورسٹی آج تک اپنے سٹیچیوٹس مرتب نہیں کر سکی۔ ایسی صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات جیسے اہم عہدوں کی اہلیت، تقرری اور مدت ملازمت کا تعین آخر کس قانونی فریم ورک کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اشتہار میں سب سے زیادہ تنقید اس شق پر کی جا رہی ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ تقرری ایک سال کے کنٹریکٹ پر ہوگی اور اطمینان بخش کارکردگی کی صورت میں اس میں توسیع کی جا سکے گی۔رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات یونیورسٹی کے بنیادی سٹیچیوٹری عہدے ہیں جن کی حیثیت کسی عام انتظامی اسامی جیسی نہیں ہوتی۔ ان عہدوں کے اختیارات اور مدت ملازمت قانون اور سٹیچیوٹس کے ذریعے متعین کیے جاتے ہیں، نہ کہ سالانہ بنیادوں پر کارکردگی کے جائزے کے ذریعے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی رجسٹرار یا کنٹرولر کی ملازمت ہر سال توسیع کے فیصلے سے مشروط ہو تو اس سے اس عہدے کی آزادی، خودمختاری اور غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض حلقوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک سالہ قابل توسیع کنٹریکٹ ہی بہترین ماڈل ہے تو پھر وائس چانسلر کے عہدے کو بھی سالانہ بنیادوں پر توسیع سے مشروط کیوں نہ کر دیا جائے۔ اشتہار میں ایک اور متنازع نکتہ کوٹہ ریزرویشن سے متعلق سامنے آیا ہے۔ اشتہار کے مطابق متعلقہ آسامیوں پر کوٹہ لاگو ہوگا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی صرف ایک ایک پوسٹ موجود ہے تو پھر کوٹہ نافذ کرنے کا عملی اور قانونی طریقہ کار کیا ہوگا؟ ان کے مطابق واحد سٹیچیوٹری عہدے پر کوٹہ لاگو کرنے کا معاملہ بذات خود قانونی وضاحت کا متقاضی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے عہدوں پر تقرری کے لیے بنیادی حوالہ یونیورسٹی ایکٹ اور سٹیچیوٹس ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے انتظامی فیصلے جو بعد میں قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہوں۔ اشتہار میں شامل ایک اور شق نے بھی حیرت پیدا کر دی ہے جس کے مطابق یونیورسٹی کو آسامیوں کی تعداد میں اضافہ یا کمی کا اختیار حاصل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات عام بھرتیوں کی فہرست میں شامل عہدے نہیں بلکہ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت قائم مخصوص اور مستقل سٹیچیوٹری عہدے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر قانون کے تحت ایک رجسٹرار اور ایک کنٹرولر امتحانات کا عہدہ موجود ہے تو پھر ان عہدوں کی تعداد میں اضافہ یا کمی کا اختیار کس قانون کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی شقیں اس تاثر کو مضبوط کرتی ہیں کہ اشتہار کی تیاری میں قانونی تقاضوں کے بجائے عمومی انتظامی اشتہارات کا طرز اختیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح اشتہار میں “فریش امیدواروں” کی عمر کی حد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے لیے وہی عمر کی حد لاگو ہوگی جو پنجاب حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی ہو۔ اس شق پر بھی متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پنجاب حکومت رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات جیسے سٹیچیوٹری عہدوں کے لیے الگ سے فریش امیدواروں کی عمر کی حد نوٹیفائی نہیں کرتی۔ مزید یہ کہ ان عہدوں کے لیے اشتہار میں خود وسیع انتظامی اور پیشہ ورانہ تجربے کی شرائط موجود ہیں، جس کے باعث فریش امیدوار سرے سے اہل ہی نہیں بنتے۔ ایسی صورت میں فریش امیدواروں کی عمر کی حد کا ذکر اشتہار میں شامل کرنا ماہرین کے نزدیک ایک غیر ضروری اور غیر متعلقہ شق معلوم ہوتی ہے جو اشتہار کی قانونی اور انتظامی تیاری پر مزید سوالات کھڑے کرتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف دو آسامیوں کے اشتہار تک محدود نہیں بلکہ اس سے یونیورسٹی گورننس، ادارہ جاتی خودمختاری، قانونی عملداری اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قواعد و ضوابط کی پاسداری کا وسیع تر مسئلہ جڑا ہوا ہے۔ جب ایک یونیورسٹی برسوں گزرنے کے باوجود اپنے سٹیچیوٹس تشکیل نہ دے سکے، سٹیچیوٹری عہدوں کی مدت ملازمت کو سالانہ توسیع سے مشروط کر دے، واحد آسامیوں پر کوٹہ نافذ کرنے کی بات کرے، آسامیوں کی تعداد کم یا زیادہ کرنے کا اختیار محفوظ رکھے اور ایسے امیدواروں کی عمر کی حد مقرر کرے جو بنیادی طور پر اہل ہی نہ ہوں، تو پھر ایسے اشتہارات شفافیت، میرٹ اور قانونی استحکام کے بجائے مزید سوالات اور تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ تعلیمی و قانونی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر اشتہار میں موجود ابہام کی وضاحت کرے، متعلقہ قانونی بنیادیں عوام کے سامنے لائے اور رجسٹرار و کنٹرولر امتحانات جیسے اہم سٹیچیوٹری عہدوں پر تقرری کے لیے مکمل طور پر یونیورسٹی ایکٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف طریقہ کار اختیار کرے تاکہ مستقبل میں کسی قانونی یا انتظامی تنازع سے بچا جا سکے۔







