بنگلہ دیش نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کی بحالی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے کہا کہ ڈھاکہ بدلتے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے دوران امن اور علاقائی انضمام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صدر جنرل ضیاء الرحمٰن نے علاقائی تعاون کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا تھا۔سارک کا قیام 8 دسمبر 1985 کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔ اس کے بانی ارکان میں بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل تھے۔ 3 اپریل 2007 کو افغانستان کو آٹھویں رکن کے طور پر شامل کیا گیا۔ سارک کا صدر دفتر کھٹمنڈو، نیپال میں ہے۔ تنظیم کا مقصد زراعت، دیہی ترقی، مواصلات، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور ذرائع نقل و حمل جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔اپنے قیام کے چار دہائیوں بعد بھی سارک اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی ہے۔ سارک اپنے رکن ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے باز رہتی ہےجس کی وجہ سے کشمیر جیسے سنگین مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔2014 میں نیپال میں 18ویں سارک سربراہی اجلاس کے بعد سے تنظیم کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ 19ویں اجلاس، جو 2016 میں پاکستان میں ہونا تھا، بھارت کی طرف سے انکار کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کے مطابق نئے وزیر اعظم طارق الرحمٰن کی خارجہ پالیسی میں سارک کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے لیکن خطے کے اندر باہمی تجارت صرف پانچ فیصد کے قریب ہے، جو کمزور علاقائی روابط کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر سارک کو دوبارہ فعال کرنا ہے تو مندرجہ ذیل شعبوں پر توجہ دینا ضروری ہے:1۔سارک کرنسی اور مالی تعاون: خطے میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ادائیگی کے نظام اور ممکنہ طور پر سارک کرنسی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔2۔تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ: جنوب ایشیائی آزاد تجارتی معاہدے (SAFTA) پر 2006 میں عملدرآمد شروع ہوا، لیکن اس کے باوجود علاقائی تجارت اب بھی بہت کم ہے۔ محصولات اور غیر محصولی رکاوٹوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔3۔ویزا آسانی: خطے میں لوگوں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے سارک ویزا سہولت پر عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔ اس سے سیاحت، تعلیم، کاروبار اور ثقافتی تبادلے کو فروغ ملے گا۔4۔توانائی اور انفراسٹرکچر میں تعاون: علاقائی توانائی گرڈ اور نقل و حمل کے منصوبے خطے کے ممالک کو باہم منسلک کر سکتے ہیں۔5۔انسانی ترقی: صحت، تعلیم، اور غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ منصوبے بنائے جائیں۔ پاکستان کو سارک کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سارک کے پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے فعال سفارتی کوششیں کرے۔سارک کی بحالی جنوبی ایشیا کے عوام کے مفاد میں ہے۔ اس خطے میں دنیا کی سب سے بڑی غریب آبادی ہے، اور علاقائی تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ بھارت کو اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے سارک کو فعال کرنے میں تعاون کرنا چاہیے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ کوششیں قابل ستائش ہیں، اور دیگر رکن ممالک کو بھی اس سلسلے میں آگے آنا چاہیے۔صرف اسی طرح جنوبی ایشیا اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے اور عوام کو ترقی، خوشحالی اور امن فراہم کر سکتا ہے۔ سارک کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔







