ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ڈی وان سن Da-Wen Sun کی جانب سے سامنے آنے والے سنگین الزامات کے بعد بالآخر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی اعلیٰ انتظامیہ کو خاموشی توڑنا پڑ گئی، تاہم جاری کردہ وضاحتی موقف نے معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ذولفقار علی رانا کی جانب سے جاری کردہ ردعمل میں تاخیر پر معذرت تو کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادائیگی کا عمل’’فارمل فارن ایکسچینج فنڈز کی دستیابی‘‘سے مشروط ہوتا ہےجس میں وقت لگ سکتا ہے۔ مراسلے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کنٹرولر آف ایگزامینیشنز نے فروری 2026 میں ابتدائی ای میل کو خزانچی دفتر کو ارسال کر دیا تھا اور بعض جوابات بھی شیئر کیے گئے۔ مزید برآںوائس چانسلر نے اپنے بیان میں’’تحقیقات‘‘شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، پر’’ چنتخب‘‘ وی سی نے سائنسدان ڈی وان سن کا اعزازیہ دبا لیا، احتیاطی نوٹ سے عالمی سطح پر شرمندگی
ملتان (سٹاف رپورٹر) نامعلوم میرٹ کی بنیاد پر حکومت پنجاب کے صوبائی محکمہ تعلیم اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ مشترکہ کاوشوں اور سرچ کمیٹی کی سفارشات پر’’ چنتخب‘‘ سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر حضرات نت نئے گل کھلا رہے ہیں اور ملکی سطح پر تعلیم کا بیڑا غرق کرنے کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر بھی ملکی ساکھ کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایک نیا کٹا فیصل آباد کی عالمی سطح کی معروف ترین زرعی یونیورسٹی کے’’ چنتخب‘‘ وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی طرف سے کھولا گیا ہے۔ بین الاقوامی علمی دنیا میں عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ڈی وان سن (Da-Wen Sun) نے اپنی ذاتی پیشہ ورانہ ساکھ کو داؤ پر لگا کر ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پروفیسر ڈی وان سن جو کہ فوڈ انجینئرنگ کے شعبے میں دنیا کے صفِ اول کے محققین میں شمار ہوتے ہیں کو یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی جانب سے دو پی ایچ ڈی تھیسز کے بیرونی ممتحن (External Examiner) کے طور پر مدعو کیا گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلیمی روایات کے مطابق اپنی ذمہ داری نہایت دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مکمل کی اور مقررہ تاریخوں (اکتوبر اور دسمبر 2025) کو مقررہ مدت میں اپنی رپورٹس جمع کروا دیں۔ مگر اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو اس معاملے کو محض ایک انتظامی کوتاہی سے بڑھا کر ایک سنجیدہ ادارہ جاتی بحران میں بدل دیتا ہے۔ پروفیسر سن کے مطابق کام مکمل ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد انہوں نے اپنے اعزازیے (Honorarium) کے حوالے سے باقاعدہ طور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے متعلقہ حکام سے رابطہ شروع کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز، خزانچی، وائس چانسلر آفس اور خود وائس چانسلر ڈاکٹر ذولفقار علی تک متعدد ای میلز ارسال کیں۔ لیکن حیران کن طور پر فروری سے اپریل 2026 تک جاری رہنے والی اس خط و کتابت کا نتیجہ مکمل خاموشی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کے مطابق یہاں سوال صرف ایک معاوضے کی ادائیگی کا نہیں بلکہ ایک ایسے رویے کا ہے جو کسی بھی بین الاقوامی تعلیمی معیار کے نہ صرف منافی ہے بلکہ تعلیمی اقدار کے کسی بھی میرٹ پر پورا نہیں اترتا۔ ایک عالمی شہرت یافتہ سائنسدان جس کا نام تحقیقی دنیا میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے، جب ایک پاکستانی یونیورسٹی کے ساتھ اپنے تجربے کو’’احتیاطی نوٹ‘‘کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو یہ محض ذاتی شکایت نہیں رہتی بلکہ ایک ادارے کی ساکھ پر کھلا تبصرہ بن جاتی ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پروفیسر سن کے مطابق اس معاملے کو اعلیٰ سرکاری سطح تک بھی اٹھایا گیا مگر اس کے باوجود کسی بھی سطح پر نہ کوئی وضاحت دی گئی، نہ معذرت اور نہ ہی مسئلے کے حل کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آئی۔ یہ طرزِ عمل اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ مسئلہ محض تاخیر نہیں بلکہ ایک گہری انتظامی بے حسی، نااہلیت اور جوابدہی کے فقدان کا عکاس ہے۔ تعلیمی ماہرین کے نزدیک اس واقعے کے اثرات محض ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہیں گے۔ بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے پاکستانی جامعات کے ساتھ تعاون کے حوالے سے مستقبل میں ہچکچاہٹ پیدا ہونا ایک فطری ردِعمل ہو سکتا ہے جو تحقیق، مشترکہ منصوبوں اور علمی تبادلوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے واقعی عالمی معیار کے مطابق چل رہے ہیں یا پھر اندرونی بدانتظامی اور غیر سنجیدگی نے انہیں صرف نام کی حد تک’’بین الاقوامی‘‘بنا رکھا ہے؟ اگر ایک عالمی سطح کے سائنسدان کو اس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے تو عام محققین اور طلبہ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہوگا۔ یہی وہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید متعلقہ حکام کے پاس بھی نہیں۔ یہ معاملہ فوری توجہ، شفاف تحقیقات اور واضح جوابدہی کا متقاضی ہےکیونکہ یہ خاموشی اب صرف ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک قومی تعلیمی ساکھ کا بحران بنتی جا رہی ہے۔
University of Agriculture Faisalabad, Da-Wen Sun, Dr Zulfiqar Ali Rana,







