گزشتہ کالم میںمیرے اپنی شادی کے تذکرے پر ڈاکٹر اشفاق جسکانی صاحب نے کچھ خوبصورت یادیں تازہ کروائیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح اس دور میں دوستوں، جن میں ہمارے پیارے دوست مرحوم ڈاکٹر اجمل خان (جنہیں ہم محبت سے ‘لالا اجمل کہتے تھے)، ڈاکٹر اخلاق انصاری صاحب اور دیگر رفقاء شامل تھے۔ سب نے اس موقع کو شاندار جشن میں بدل کر رکھ دیا تھا۔
اس دور میں شادی بنیادی طور پر والدین، رشتہ داروں اور خصوصاً مخلص دوستوں کی شرکت کی بدولت سچی خوشیوں کا سرچشمہ ہوا کرتی تھی، جہاں ہر عمل سے خلوص اور محبت کا اظہار ہوتا تھا۔ میری بارات میں ملتان سے میرے ڈاکٹرز دوست بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ لالا اجمل مرحوم کی قیادت میں تمام دوست ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے میرے سسرال پہنچے۔ اس کے بعد گاؤں میں بھی روایتی اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ ولیمہ کی تقریب کا بہترین اہتمام کیا گیا تھا، جہاں دوستوں نے خوب ہلہ گلہ کیا۔
لالا اجمل کا تعلق ملتان کے تاریخی علاقے کوٹلہ تولے خان سے تھا۔ ان کی اپنی شادی کے موقع پر بھی ہم تمام دوستوں نے اسی طرح بھرپور جشن منایا تھا۔ لالا اجمل مرحوم نے میری شادی سے ایک ماہ قبل کوٹلہ تولے خان کی صدیوں پرانی روائیت کی روشنی میں ایک خاص مالشئے کا بندوبست کر رکھا تھا، جو روزانہ پابندی سے میری مالش کیا کرتا تھا—یہ مالش کم اور پہلوانوں والی ورزش زیادہ معلوم ہوتی تھی! یہ دراصل کوٹلہ تولے خان کی قدیم اور خوبصورت روایات سے بڑھ کر دوستوں کے اخلاص کا ایک عملی مظاہرہ ہوا کرتا تھا تاکہ گھوٹ یعنی دولہے کا چہرہ چمکتا نظر آئے۔
آج کے دور پر نظر ڈالیں تو شادی محض قیمتی لباسوں، دلہن کے مہنگے لہنگے اور خاندان کے دیگر افراد کے زرق برق کپڑوں کی نمائش اور دکھاوے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی بڑے ہوٹل کے بے ذائقہ اور پھیکے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔
موجودہ دور کی شادی صرف مقابلے بازی، دکھاوے اور اپنی امارت کے اظہار کا ذریعہ بن چکی ہے، جہاں چند گھنٹوں کی مصنوعی مسکراہٹوں کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
آج سے تقریباً 40 سال پہلے بھی ہمارے دفتری نظام میں کیسی کیسی نااہلی اور عجیب و غریب صورتِ حال ہوتی تھی، اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب آر ڈی او (RDO) تشکیل پا گئی اور ڈی ایچ او (DHO) صاحب نے ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے، تو ہمارے پیٹرن ان چیف نے گلشن مارکیٹ میں واقع میرے کلینک پر مجھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھ سے کہا: “میں آپ سے کلینک پر ہی مل لیا کروں گا، آپ میرے دفتر نہ آیا کریں۔”
پہلے تو مجھے ان کی اس بات میں حکمت سمجھ نہ آئی، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔ انتظامیہ کو یہ تو علم تھا کہ آر ڈی او میں زیادہ تر ڈاکٹر صاحبان پیٹرن ان چیف کے واقف کار ہیں، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ باقاعدہ اس تحریک کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اندر کی تمام خبریں انہی کے ذریعے ہمیں بروقت معلوم ہو جاتی تھیں۔ ان کا گھر بھی میرے کلینک کے قریب تھا، اس لیے اکثر میرے کلینک پر یا ان کے گھر ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔
جسکانی صاحب بھی اکثر کلینک پر کبھی کبھار مجھ سے ملنے آیا کرتے تھے اور وہاں پر اکثر پیٹرن ان چیف بھی تشریف فرما ہوتے تھے۔ وہ مجھے مزاحاً کہا کرتے تھے کہ “تمہارا کلینک تو ڈاکٹروں کا کلینک کم اور آر ڈی او (رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن) کا دفتری ڈیرہ زیادہ لگتا ہے!” میں بلکہ کہتا کہ نہیں، آپ اسے کلینک کے بجائے ڈیرہ ہی سمجھیں! اور حقیقت بھی یہی تھی کہ وہ کلینک سے زیادہ ڈیرہ معلوم ہوتا تھا، کیونکہ میرا اور پیٹرن ان چیف کا ڈاکٹری سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا بیرونِ ملک ملازمت کرنے والوں کا اپنے بچوں کی براہِ راست پرورش سے ہوتا ہے! میں شروع ہی سے سیاست میں دلچسپی رکھتا تھا اور ان کے خیالات بھی بائیں بازو کے تھے کیونکہ وہ بھی بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا حصہ رہے تھے، یہی ہم دونوں میں قدرِ مشترک تھی اور یہی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائی۔
یہ انہی دنوں کی بات ہے یعنی 1985ء اور 1986ء کے دوران، جب پنجاب کی سیاست میں زبردست گرما گرمی شروع ہو گئی۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد میاں نواز شریف اپنے آپ کو حقیقی وزیراعلیٰ سمجھنے لگے تھے۔ تب جنرل ضیاء الحق نے نواز شریف کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لیے پیر پگارا صاحب سے کہا کہ آپ اس کا کوئی بندوبست کریں۔ پیر پگارا صاحب نے اس کام کے لیے سید یوسف رضا گیلانی صاحب کو منتخب کیا (جو رشتے میں پیر پگارا صاحب کے بھانجے/خالو کی نسبت سے عزیز بھی تھے)۔
چونکہ سید یوسف رضا گیلانی صاحب اس وقت ممبر قومی اسمبلی (MNA) تھے، اس لیے انہوں نے پنجاب اسمبلی کے اپنے چار بااثر دوست اراکینِ اسمبلی کو اس تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے متحرک کیا۔ ان اراکین میں چوہدری پرویز الٰہی صاحب، سعید منیس صاحب، مخدوم الطاف حسین مرحوم اور ملک اللہ یار خان شامل تھے، جو فوراً اس سیاسی میدان میں اتر آئے۔
اسی دوران پیر پگارا صاحب نے اپنا وہ مشہور بیان دیا تھا کہ: “میں نے بوری میں سوراخ کر دیا ہے، اب دانے گرتے رہیں گے۔”
اسی طرح روزنامہ ‘جنگ کے نامور کارٹونسٹ جاوید اقبال صاحب کا ایک شاہکار کارٹون چھپا تھا، جس میں ایک طرف پیر پگارا صاحب بوری میں سوراخ کر رہے ہیں اور دوسری طرف جنرل ضیاء الحق سوئی دھاگے سے اس بوری کو سی کر ٹھیک کر رہے ہیں با الفاظ دیگر جنرل ضیاء الحق دونوں طرف کی پشت پناہی کر رہے تھے۔
اس تحریک کی اصل کہانی اور پسِ پردہ حقائق سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنی قید کے دوران لکھی گئی کتاب “چاہِ یوسف سے صدا” میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ جب نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ خطرے میں پڑ گئی تو ان کے والد میاں شریف صاحب اپنے بیٹے کی وزارت بچانے کے لیے جنرل ضیاء الحق سے ملے۔ انہوں نے مکمل تسلی کروائی کہ آئندہ ایسی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے اپنی ہمدردیاں نواز شریف کی جھولی میں ڈال کر یہ تحریک ختم کروا دی۔
جب تحریک ختم ہوئی تو اس تحریک میں پیش پیش رہنے والے رہنماؤں چوہدری پرویز الٰہی، سعید منیس اور مخدوم الطاف حسین نے سید یوسف رضا گیلانی سے شکوہ کیا کہ “آپ نے تو ہمیں محض استعمال کیا!”
اس واقعہ کے بعد نواز شریف کے دل سے ان رہنماؤں کے خلاف کینہ و کدورت کبھی ختم نہ ہوئی۔ حالانکہ چوہدری برادران نے مسلم لیگ کے لیے بہت قربانیاں دیں، لیکن اس کے باوجود نواز شریف نے انہیں کبھی پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لائق نہ سمجھا۔ بعد میں مشرف دور میں قاف لیگ (PML-Q) کے قیام کے بعد ہی انہیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ نصیب ہوئی۔
دوسری طرف جب سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خالو پیر پگارا صاحب سے اس صورتِ حال پر شکوہ کیا تو پیر صاحب نے مسکرا کر فرمایا: “برخوردار! سیاست اسی کا نام ہے۔ جب تم سیاست میں دوسرے لوگوں کو استعمال کرنے کا فن سیکھ جاؤ گے، تبھی ایک مکمل سیاستدان بنو گے۔”
ماشاءاللہ سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنے خالو کی یہ بات ایسی پلے باندھی کہ انہوں نے نہ صرف افراد بلکہ سیاسی پارٹیوں کو بھی استعمال کرنے کا فن خوب سیکھ لیا! اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کے برابر یا ان سے بھی زیادہ فنڈز مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو دیے، جس پر ایک ٹی وی انٹرویو میں اعزاز سید کے سوال کے جواب میں میاں غفار صاحب نے کچھ یوں تبصرہ کیا کہ “زرداری صاحب اگر دوستوں کے دوست ہیں تو پھر “یوسف رضا گیلانی صاحب تو دشمنوں کے بھی دوست ہیں!”
آج بات کرتے کرتے میں اصل موضوع سے کچھ ہٹ گیا اور جو اصل بات میں لکھنا چاہتا تھا وہ رہ گئی۔ انشاء اللہ اگلے کالم میں، میں اس مخصوص واردات کا ذکر کروں گا جو رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن کے ہوتے ہوئے ملتان اور پورے پنجاب کے ڈاکٹروں کے ساتھ پیش آئی تھی۔







