ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان، امریکی زمینی فوج بھیجنے سے بھی انکار-ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان، امریکی زمینی فوج بھیجنے سے بھی انکار-خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے کے بعد انتظامی امور صوبائی حکومت کے سپرد کر دیے جائیں گے: طارق فضل چوہدری-خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے کے بعد انتظامی امور صوبائی حکومت کے سپرد کر دیے جائیں گے: طارق فضل چوہدری-فیفا کا فٹبال کی ترقی کیلئے 6 ارب 35 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ، پاکستان سمیت 211 ممالک کو فنڈز ملنے کا امکان-فیفا کا فٹبال کی ترقی کیلئے 6 ارب 35 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ، پاکستان سمیت 211 ممالک کو فنڈز ملنے کا امکان-سعودی عرب پر حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، پاکستان کا اظہارِ تشویش-سعودی عرب پر حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، پاکستان کا اظہارِ تشویش-آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی میں 20 کلو تھیلا 3540 روپے تک جا پہنچا-آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی میں 20 کلو تھیلا 3540 روپے تک جا پہنچا

تازہ ترین

رورل ڈاکٹرز آرگنائزیشن (آخری قسط)

زندگی کے سفر میں ماضی کے جھروکوں سے جب پیچھے جھانک کر دیکھیں تو جہاں پیشہ ورانہ اتار چڑھاؤ نظر آتے ہیں، وہاں کئی ایسے واقعات بھی یاداشتوں کی سکرین پر ابھرتے ہیں جو ہمارے نظام کی اندرونی خرابیوں اور بیوروکریسی کے بگاڑ کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ قسط میں ذکر ادھورا رہ گیا تھا، اس لیے سوچا کہ اس قسط میں اس اصل واردات” اور اپنے ماضی کے ان انمول لمحوں کا ذکر لازمی شامل کروں جو میعے مشاہدات کا حصہ رہے۔ ​ہماری طبی تاریخ کا ایک اہم پہلو 1974ء کا وہ تجربہ تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا۔ اس دور میں چین کے مشہور “بیئر فٹ ڈاکٹرز” یعنی دیہی صحت کے نظام سے متاثر ہو کر پاکستان بھر میں بھی “میڈیکل اسسٹنٹ” کی ایک نئی کلاس متعارف کرائی گئی۔ خیال یہ تھا کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر نوجوانوں کو ڈھائی سے تین سال کی جامع تربیت دے کر دیہات میں بھیجا جائے تاکہ دور دراز کے علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات پہنچائی جا سکیں۔ تاہم یہ سلسلہ صرف ایک ہی بیچ تک محدود رہا اور بعد میں اس کورس کو ختم کر دیا گیا۔
اگر ہم ماضی بعید کے برطانوی دورِ حکومت میں جائیں تو اس وقت بھی ایل ایس ایم ایف کی صورت میں تین سالہ میڈیکل کورس ہوا کرتا تھا۔ اس ڈگری کے حامل لوگ دیہات میں بطور جونیئر میڈیکل افسر تعینات ہوتے تھے۔ مگر اس نظام کی خوبصورتی یہ تھی کہ انہیں آگے ایم بی بی ایس کرنے کا موقع ملتا تھا۔ ان میں سے کئی محنتی لوگوں نے بعد میں ایم بی بی ایس کیا بھی، حتہ کہ برطانیہ سے ایم آر سی پی کی اعلیٰ ڈگریاں بھی حاصل کیں اور آگے چل کر پروفیسر بھی بنے۔ ​لیکن 1974ء والے میڈیکل اسسٹنٹس کے معاملے میں ایک عجیب اور حیران کن واردات ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ پورے پنجاب میں ان کی تعداد کل 70 سے 80 کے قریب تھی۔ یہ لوگ ان دنوں 11 ویں یا 12 ویں گریڈ میں ملازم تھے۔ انہوں نے اپ گریڈیشن کے لیے ملتان سے ایک درخواست کی شروعات کی کہ ہمیں گریڈ 13 اور 14 میں پروموٹ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر فرد سے فی کس ایک ایک ہزار روپیہ اکٹھا کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں ایک ہزار روپیہ بھی بہت بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔ یہ تمام فنڈز اکٹھے کر کے کچھ رقم مقامی سطح پر خرچ کی گئی اور باقی بھاری رقم لاہور میں واقعہ سول سیکرٹریٹ تک رشوت کی نذر کی گئی تاکہ کام فوری نکل سکے مگر اس رشوت کے نتائج اتنے حیران کن تھے کہ محض دو تین سال کے قلیل عرصے میں، وہ تمام کے تمام 11 ویں اور 12 ویں گریڈ کے ملازمین تیز ترین ترقی پاتے ہوئے گریڈ 16 تک پہنچ گئے! اور یہ صورتحال اپنے کلائمکس تک تو تب پہنچی جب ان کی فائلیں گریڈ 18 تک پہنچانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں، ادھر دوسری طرف ایم بی بی ایس ڈاکٹرز جو پچھلے 10, 12 سالوں سے خدمات سرانجام دے رہے تھے، وہ گریڈ 17 ہی میں اٹکے ہوئے تھے۔
​یہ ہمارے سرکاری نظام اور “سرخ فیتے” کا وہ بدنما المیہ ہے جہاں جائز کام کے لیے درخواستیں سالہا سال دھکے کھاتی رہتی ہیں اور ان پر دھول جمتی رہتی ہے، لیکن اگر ” رشوت اور حرام خوری کے پہیے” لگا دیے جائیں تو ناجائز اور ناممکن کام کو بھی پر لگ جاتے ہیں اور فائلیں دنوں میں پنگ پانگ کی گیند کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگتی ہیں۔ بالکل وہی بات جو بعد میں پاکستان کے مشہور پراپرٹی ٹائکون ملک ریاض صاحب نے بھی کہی تھی کہ “اگر فائل کو جلدی چلانا ہے تو اس کو پہیے لگانے پڑتے ہیں۔
جب ہمارے پیٹرن چیف کے ذریعے ہمیں اس پوری واردات کا علم ہوا تو ہم ششدر رہ گئے۔ اس پر ہم نے سوچ بچار کے بعد اس کے خلاف ایک بھرپور تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اندرونی حالات اور حقائق سے آگاہی حاصل کی، پی ایم اے لاہور کے ساتھیوں اور دیگر دوستوں سے رابطہ کیا، پھر لاہور جا کر سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر حکام کے سامنے یہ سارا معاملہ اٹھایا۔ ہم مسلسل اس کا تعاقب کرتے رہے اور بالآخر اس ناانصافی اور غیر قانونی پروموشن کے سلسلے کو رکوانے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت جو صاحب اس گروپ کو لیڈ کر رہے تھے، ان کا نام شریف انصاری صاحب تھا (جو میڈیکل اسسٹنٹ سے قبل شاید ڈی ایچ او آفس ملتان میں سٹور کیپر بھی رہے تھے اور اچھے خاصے کاریگر مانے جاتے تھے)۔ بعد میں ان کے ساتھ اس واقعے کا ذکر بڑے دوستانہ اور مزاحیہ ماحول میں بھی ہوتا رہا۔
​اس سنجیدہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ ہماری تنظیم اور ساتھیوں کی یادیں بھی دامنِ دل سے لپٹی ہوئی ہیں۔ ان دنوں ہماری ماہانہ میٹنگز ہوا کرتی تھیں اور ان کے بعد کھانے کا اہتمام ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہت کم ہوا کرتی تھیں البتہ خلوص اور جذبہ بے مثال تھا۔ ہمارے فنانس سیکرٹری ڈاکٹر بشیر قمر صاحب اور ہمارے پیارے بھائی حبیب” (ڈاکٹر حبیب صاحب) بڑی جدوجہد سے سب ساتھیوں سے چندہ اکٹھا کرتے تاکہ کھانے کا بندوبست ہو سکے۔
​کھانے کے دوران گپ شپ اور شغل بھی چلتا رہتا تھا۔ ایک بار جب کھانا لگا تو گوشت کافی سخت تھا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر سلیم صاحب (سلیم بھائی) نے بیرے کو بلایا اور بڑی سنجیدگی سے کہا:
یار! ذرا جا کر کہیں سے زنبور (پلاس/اوزار) لے کر آؤ!”
ویٹر بہت حیرانگی سے بولا: “سر! زنبور؟ وہ کیوں؟”
سلیم بھائی نے مسکرا کر جواب دیا: “بھائی! یہ گوشت توڑنا ہے، اس کے بغیر تو یہ ٹوٹنے سے رہا!”
اس بات پر پورے ہال میں قہقہے گونج اٹھے اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔
​آج جب ماضی کے اس واقعے پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ 40 سال پہلے ہمارے نظام میں کرپشن اور ناانصافی کا جو بیج بویا گیا تھا، آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ آج ہمارا نظام اس قدر گل سڑ چکا ہے اور کرپشن کے ایسے ایسے نئے اور جدید طریقے ڈھونڈ لیے گئے ہیں کہ ماضی کی وہ وارداتیں آج کے مقابلے میں شاید بہت اور معصومانہ اور چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں