رسم شبیری(حکم اذاں)

رسم شبیری(حکم اذاں) شیخ محمد فہم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

اسرائیل اور امریکہ شاید ابھی ایران پر حملہ کرنے میں اتنی جلدی نہ کرتے مگر مودی کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز ہی اسرائیل نے امریکہ کی آشیر باد سے ایران پر حملہ کر دیا اور اس روز سے پورا خطہ میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ کوئی نیا نہیں ہے۔ ہر تین کا واحد مقصد اسلامی ممالک کو کمزور کرکے اپنے زیر نگیں کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور بھارتی اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، خصوصاً ان ممالک کو امریکہ نے یہ باور کرا رکھا ہے کہ امریکہ آپ کی مکمل حفاظت کرے گا جس کی وجہ سے تمام خلیجی ریاستوں نے اپنی اپنی حدود میں امریکی اڈے بنوائے ہوئے ہیں اور اس حفاظت کی آڑ میں امریکہ ان سے نہ صرف اچھی خاصی رقوم بٹور رہا ہے بلکہ دیگر معاشی فائدے بھی اٹھا رہا ہے۔ اسی طرح امریکی دباؤ میں خلیجی ریاستیں دیگر اسلامی ممالک کو ترجیح دینے کے بجائے بھارت سے معاشی اقتصادی اور تجارتی معاہدے کر رہی ہیں اور اس طرح خلیجی ریاستوں کے سرمائے کی بنیاد پر امریکہ اور بھارت نہ صرف مالی اور معاشی طور پر مضبوط ہوتے جاچرہے ہیں بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے لیے خطرہ بھی بنتے جا رہے ہیں۔جن اسلامی ممالک نے اپنے طور پر یا امریکہ بھارت مخالف قوتوں کے اتحاد کے بغیر ترقی کرنے کی کوشش کی ان ممالک میں بدامنی پھیلا اور قتل و غارت کروا کر وہاں کی عوامی خواہشات کے برعکس اپنی مرضی کی حکومتیں مسلط کر دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لاہور اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقد ہونے پر امریکہ اور بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور ان ممالک نے مشترکہ طور پر رجیم چینج مہم شروع کر دی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس میں متحرک کردار ادا کرنے والے تمام مسلم لیڈر عبرت کا نشان بنا دیئے گئے جبکہ پاکستان کے میزبان ہونے کی پاداش میں نہ صرف اقتدار کی تبدیلی ہوئی بلکہ ایک مقبول عوامی لیڈر کو عالمی مزاحمت کے باوجود تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ۔ ایران میں عوامی بیداری کے بعد شاہ ایران کی حکومت ختم ہوئی تو ان کی جگہ مذہبی اور عوامی لیڈر آیت الله خمینی نے اقتدار سنبھالا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں بھی اس امر کا ادراک ہو گیا تھا کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد ہی پاکستان باوقار زندگی گزار سکتا ہے اور پھر تمام تر پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود آئٹم بم بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بالآخر ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد یہ کام نواز شریف نے انجام دیا۔ اس طرح پاکستان رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اپنے سے کئی گنا بڑے ملک ہندوستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنے کے قابل ہے۔ یہی بات آیت اللہ خمینی کی سمجھ میں آ گئی تھی اور ایران میں ایٹم بم بنانے کا عمل شروع ہو گیا جبکہ خطے میں طاقت کا توازن اسلام کے حق میں بہتر ہو جانا خود امریکہ اور بھارت کو ایک آنکھ نہ بھایا اور اسی کی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل دشمنی کر کے جبکہ بھارت دوستی کی آڑ میں ایران کے درپے ہو گئے اس سارے کھیل میں بھارت کا کردار نہایت گھٹیا اور گھناؤنا رہا۔ ایران کے ساتھ دوستی کی آڑ میں وہ حالیہ صورتحال میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ ایران نے صرف مزاحمت کو بلکہ امریکہ کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لایا اور ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے یہود و نصاری والی روایتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ایک طرف صلح کی کوشش اور دوسری طرف دھمکیوں کی پالیسی اپنائے رکھی اور پھر جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو پھر ایران کے اتحادی ممالک سے صلح کی درخواست کی اور اس ضمن میں ایران کے بڑے مددگار اور اتحادی ملک چین کا دورہ بھی کر ڈالا۔ اس جنگ میں ہم چین روس اور کوریا دامے، درمے سخنے ایران کا ساتھ دیتے رہے جبکہ پاکستان نے سفارتی سطح کے علاوہ اشیاء کے خوردو نوش کی سپلائی کرتے ہوئے ایران کی مدد کی ابتدائی طور پر تمام خلیجی مالک ایران کے مخالف رہے مگر جب ایرانی حملوں کے مقابلے میں امریکہ مکمل ناکام ہو گیا تو انہیں سمجھ آ گئی کہ امریکا اتنا عرصہ ان ممالک سے دفاع کی آڑ میں بھتہ خوری کرتا رہا ہے اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈے صرف اور صرف ٹوپی ڈرامہ ہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملے بند کر دیئے جبکہ خلیجی ممالک نے بھی امریکہ کو صاف جواب دے دیا۔ اس طرح تمام خلیجی ممالک اب دفاع کے لیئے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں صرف یو اے ای کی ایران سے پرخاش علاقائی ہے جو کہ خلیجی ممالک بیٹھ کر سفارتی سطح پر حل کر سکتے ہیں۔ اس ساری جنگ کی مدت میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اس معاہدہ پر دستخط ہو چکے ہیں اور فریقین اب مزید مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں اس معاہدے کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر امریکہ نے پاکستان اور خلیجی مالک کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی کہ اگر ایران اور امریکہ کا امن معاہدہ چاہیے تو اسرائیل کو تسلیم کیا جائے جس کا نہ صرف پاکستان بلکہ خلیجی ممالک نے بھی منہ توڑ جواب دیا جس کی وجہ سے امریکہ تنہا ایران سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا اور اسرائیل دنیا میں تنہا رہ گیا تمام دنیا اسرائیل کو خطے میں جنگ بھڑکانے پر نہ صرف لعن طعن کر رہی ہے بلکہ اب اسرائیل سفارتی طور پر بھی تنہائی کا شکار ہے اسی طرح امریکہ نے کسی بھی سطح پر بھارت کو اپنے معاملات میں شریک کرنے سے پہلو تہی کی جس کی وجہ سے بھارت کے حصہ میں نا صرف سبکی آئی بلکہ سفارتی ناکامی بھی اس کا مقدر بنیایران نے رسم شبیری نبھاتے ہوئے اپنے سے بہت بڑے دشمن اور دنیا کی سپر پاور کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر وار کا جواب موثر اور کاری دیا۔ جہاں دنیا کو سپر پاور کے کھوکھلے پن کا اندازہ ہوا وہاں بطور ثالث پاکستان کا ایک نیا اور مثبت روپ سامنے آیا ۔ پاکستان کی سفارتکاری اور اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان ، ڈپٹی وزیر اعظم ، وزیر داخل اور فیلڈ مارشل کی خدمات لاثانی ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں