رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ضلع رحیم یارخان کے 1000 سے زائد نجی تعلیمی ادارے اور ہزاروں ٹیوشن سینٹر غیر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف،لاکھوں طلباء و طالبات کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی،چیف ایگزیکٹو آفس ایجوکیشن کا سکولوں کی رجسٹریشن پر تعینات کلرک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان سے براہ راست رابطے،لاکھوں کی منتھلی طے،بچوں کی سکول فیسیں معاف کرواکے محکمہ سکول ایجوکیشن اور ضلعی انتظامیہ کو ماموں بنادیا،سی ای او ایجوکیشن رانا اعظم کے کماؤ پتر میاں محمد کاشف نے دفتر کو یرغمال بنا لیا، او ایس ڈی، پرائیویٹ سکول رجسٹریشن ،پی اے ٹو سی ای او اور کیشئر جیسی مال بناؤ اسائمنٹ پر قبضہ جمالیا،ڈیٹھ کیس،سکولوں کی رجسٹریشن کے نام پر لاکھوں کی دیہاڑیاں،افسران سے ففٹی ففٹی کی پارٹنر شپ،میری تعیناتی حال ہی میں ہوئی ہے ابھی معاملات کو دیکھ رہا ہوں سکولوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو نوٹسز جاری کر دئیے ہیں،رجسٹریشن نہ کروانے اداروں کو سیل کرکے کاروائی عمل میں لائی جائیگی،ایجوکیشن حکام۔تفصیل کے مطابق محکمہ ایجوکیشن رحیم یارخان میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے کلریکل سٹاف کی نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان مبینہ “انڈر ٹیبل”ڈیل اور ضلع بھر میں 1000 سے زائد نجی تعلیمی اداروں،ہزاروں ٹیوشن سینٹروں کے غیر رجسٹرڈ ہونے کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا ہے،جس کے بعد محکمہ تعلیم کی نگرانی اور ریگولیٹری نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں،ذرائع کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کے بعض اہلکاروں اور کلریکل عملے کے کردار پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں،ذرائع کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن رانا اعظم کے منظور نظر کلرک میاں محمد کاشف نے سی ای او آفس اور عملے کو یرغمال بنا یا ہے ہوا ہے اور سی ای او آفس کے مین اسائمنٹوں میں جن میں او ایس ڈی برانچ،پرائیویٹ سکول رجسٹریشن برانچ،پی اے ٹو سی ای او اور کیشئر جیسی کمائی کرنے والی برانچوں پر قبضہ جما رکھا ہے اور ان برانچوں میں تعینات کلرکوں کو کھڈے لائن لگا کر موصوف خود ان اسائمنٹوں پر ورک کرنے میں مصروف ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ سی ای او ایجوکیشن رانا اعظم کے کماؤ پتر کی اصل سیٹ کیشئر کی ہے جس پر وہ کم توجہ جب دیگر کمائی والی برانچوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں،محکمہ ایجوکیشن سے باخبر ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ رحیم یارخان شہر کے پورش ترین علاقوں سمیت صادق آباد،خانپور ،لیاقت پور میں بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،ضلع بھر میں تقریباً10 ہزار سے زائد ٹیوشن سینٹرز،ٹیوشن اکیڈمیاں بھی غیر قانونی طریقے سے چل رہی ہیں جہاں پر طلباءو طالبات کا کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جار ہا ہے،ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ضلع رحیم یارخان میں سکولوں کی رجسٹریشن کی اسائمنٹ پر تعینات کلرک میاں محمد کاشف سی ای او ایجوکیشن رانا اعظم کا کماؤ پتر ہے جس نے نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کے ساتھ مبینہ ساز با ز کرکے لاکھوں روپے کی منتھلی طے کر رکھی ہے اور اپنے بچوں کو شہر کے بڑے نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دلوا رہا ہے،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ فی سکول کی مد میں 30 سے 50 ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے جبکہ نجی تعلیمی ادارے جن میں نرسری سے پنجم تک،نرسری سے مڈل تک اور نرسری سے ہائی اور ہائر سیکنڈری تک سکولوں کی رجسٹریشن فیس 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک مقرر ہے جس کیلئےنجی تعلیمی اداروں کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سے الحاق ہونا لازم قرار ہوتا ہے مگر صرف رحیم یارخان تحصیل میں تقریباً500 سے زائد نجی تعلیمی اداروں کا بورڈر آف انٹر میڈیٹ بہاولپور سے سرے سے الحاق نہیں ہے اور مذکورہ تعلیمی ادارے بڑے نجی تعلیمی اداروں کے ذریعے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ بہاولپور کے امتحانات میں حصہ لیتے ہیں،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دوران سروس وفات پانیوالے سرکاری ملازمین کے وارثان کو مذکورہ ملازمین کی جگہ نوکری دلوانے کے کیسز میں بھی لاکھوں روپے کی لوٹ مار کی جارہی ہے اسکے ساتھ ساتھ سی ای او ایجوکیشن کا پی اے ہونے اور کیشئر جیسی پر کشش اور مال دار سیٹ پر تعیناتی کا بھرپور فائدہ اٹھا کر لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کیا جارہا ہے،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 500 سے زائد نجی تعلیمی ادارے کرائے کی عمارتوں میں چلائے جا رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات، حفاظتی انتظامات اور معیاری تعلیمی ماحول کا فقدان ہے، جس سے طلبہ اور والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،شہریوں اور والدین نے حکومت پنجاب، محکمہ اسکول ایجوکیشن اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، الحاق، عمارتوں کی قانونی حیثیت، حفاظتی انتظامات اور فیس و دیگر پالیسیوں کا شفاف آڈٹ کرایا جائے۔ ساتھ ہی غیر رجسٹرڈ یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔دوسری جانب محکمہ ایجوکیشن کے حکام اور سی ای او ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ انکی حال ہی میں تعیناتی ہوئی ہے،سکولوں کی رجسٹریشن کے حوالے سےشکایات موصول ہوئی تھیں جس پر تحصیل بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو فوری رجسٹریشن کروانے کے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں اگر نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے سکولوں کی رجسٹریشن نہ کروائی تو قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے سکولوں کی عمارتوں کو سیل کرکے مالکان کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ میاں محمد کاشف میری تعیناتی سے قبل ہیں تین چار اسائمنٹوں پر کام کر رہے تھے ،مزید کلرکوں کو سکولوں سے دفتروں میں تعینات کرکے انہیں اسائمنٹ ڈیوٹی سونپ دی جائیگی۔







