دریائے سندھ نے کوٹ سلطان میں تباہی مچا دی، فصلیں، باڑے تباہ، متعدد خاندان بے گھر

کوٹ سلطان (نامہ نگار) دریائےسندھ کے بے رحم کٹاؤ نے کوٹ سلطان کے نواحی علاقے پہاڑپور کے نشیبی مواضعات کالرو والا اور خانوالا میں تباہی کی نئی داستان رقم کر دی۔ راتوں رات سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی دریا کی نذر ہو گئی، کھڑی فصلیں پانی میں بہہ گئیں، مویشیوں کے باڑے اجڑ گئے اور کئی خاندان بے سروسامانی کے عالم میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی مسلسل غفلت اور بروقت حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث دریا ہر گزرتے دن کے ساتھ آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور اگر فوری بندوبست نہ کیا گیا تو شہری آبادی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کالرو والا اور خانوالا کے کنارے گزشتہ کئی ہفتوں سے دریائی بہاؤ میں اضافہ اور مسلسل کٹاؤ کے باعث متعدد مقامات پر زمین بڑے بڑے ٹکڑوں کی صورت دریا میں گر رہی ہے، گندم کی باقیات، چارہ، کپاس اور دیگر موسمی فصلوں پر مشتمل لاکھوں روپے مالیت کی پیداوار زیرِ آب آ چکی ہے جبکہ کئی کسان اپنی برسوں کی جمع پونجی کھو بیٹھے ہیں،متاثرہ علاقہ مکینوں محمد اسلم، اللہ دتہ، غلام شبیر، نذیر احمد اور بشیر خان نے بتایا کہ دریائی کٹاؤ کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری ہے تاہم رواں سیزن میں اس کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے، کئی خاندان اپنی زمینیں، درخت اور مویشیوں کے باڑے کھو چکے ہیں جبکہ بعض افراد کے پاس اب کاشت کے لیے قابلِ استعمال رقبہ بھی باقی نہیں رہا، متاثرہ خاندانوں نے مویشیوں سمیت نسبتاً بلند مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ بار بار نقل مکانی کے باعث روزگار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جن کسانوں کے پاس کبھی کئی ایکڑ اراضی تھی وہ آج امداد اور سہارے کے منتظر دکھائی دیتے ہیں، متعلقہ محکموں کو متعدد بار تحریری و زبانی طور پر صورتحال سے آگاہ کیا گیا مگر تاحال مؤثر حفاظتی پشتے، پتھروں کی پچنگ، اسپرز یا دیگر تکنیکی اقدامات نہیں کیے گئے، اگر بروقت حفاظتی بند تعمیر کیے جاتے تو نقصان کی شدت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی تھی،دریائے سندھ کا رخ بعض مقامات پر تیزی سے آبادی کی طرف مڑ رہا ہے جس سے کالرو والا، خانوالا اور گردونواح کی دیگر بستیوں کے علاوہ شہری آبادی کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، مسلسل کٹاؤ نہ صرف زرعی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ سڑکوں، آبپاشی کے نظام، بجلی کے کھمبوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کر سکتا ہے، انہوں نے حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ لیہ، محکمہ انہار اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بند اور پچنگ کا کام شروع کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کا سروے کر کے مالی امداد فراہم کی جائے، بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی رہائش اور چارے کا انتظام کیا جائے اور مستقبل میں دریائی کٹاؤ سے بچاؤ کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی جائے، دریائی کٹاؤ کی رفتار یہی رہی اور فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تباہی صرف زرعی زمینوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انسانی آبادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہےجس سے ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں