مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز

تازہ ترین

خیبر پختونخوا ایمرجنسی، عوام تقسیم مگر مذاکرات کے حق میں واضح اکثریت

خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے معاملے پر عوامی رائے میں اختلاف سامنے آیا ہے، تاہم ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ملک کی اکثریت سیاسی مسائل اور کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔ گیلپ پاکستان کے تازہ عوامی سروے کے مطابق ملک بھر میں 47 فیصد شہری خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 35 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ اس کے برعکس صوبے کے اندر رائے تقریباً برابر تقسیم دکھائی دیتی ہے، جہاں 42 فیصد شہری ایمرجنسی کے مخالف اور 40 فیصد اس کے حامی ہیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ قومی سطح پر کسی اقدام کی حمایت اور متعلقہ صوبے کے عوام کی رائے میں فرق ہو سکتا ہے۔ ایسے حساس معاملے میں حکومتی فیصلوں کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی جذبات، آئینی تقاضوں، امن و امان اور جمہوری اصولوں کو یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔سروے کے مطابق 41 فیصد پاکستانیوں نے صدر کے فیصلے کو آئین کے تحت جائز قرار دیا جبکہ 35 فیصد نے اسے ناجائز سمجھا اور 24 فیصد نے کوئی رائے دینے سے گریز کیا۔ یہ تقسیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایمرجنسی کے آئینی جواز پر بھی عوامی سطح پر اتفاق رائے موجود نہیں۔ ایسے فیصلوں کی قانونی حیثیت کا تعین محض عوامی رائے یا سیاسی مؤقف سے نہیں بلکہ آئین، متعلقہ قانونی دفعات، مقررہ طریقۂ کار اور عدالتی تشریح کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ عوامی سروے رائے عامہ کا رجحان تو سامنے لا سکتا ہے، لیکن وہ کسی فیصلے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنے فیصلے کی وجوہات، قانونی بنیاد اور متوقع نتائج واضح انداز میں عوام کے سامنے رکھے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر عوامی تقسیم کو سیاسی مخالفت یا حمایت کے محدود پیمانے سے دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ صوبے کے 42 فیصد شہریوں کی مخالفت اور 40 فیصد کی حمایت بتاتی ہے کہ اس معاملے پر صوبے میں کوئی فیصلہ کن عوامی اکثریت سامنے نہیں آئی۔ ایسی صورت حال میں حکومت اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اختلاف کو تصادم میں بدلنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ ہنگامی اقدامات اگر امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری قرار دیے جائیں تو ان کے مقاصد، دائرۂ کار، مدت اور قانونی حدود واضح ہونی چاہییں۔ عوام کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ کسی غیر معمولی اقدام کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا اور شہری آزادیوں کا تحفظ برقرار رہے گا۔اس پورے معاملے میں مذاکرات کی اہمیت خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریباً 80 فیصد پاکستانی مذاکرات کے حق میں ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام سیاسی کشیدگی اور اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کو اہم سمجھتے ہیں۔ سیاسی بحرانوں میں مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ اختلاف کو پُرامن اور آئینی دائرے میں حل کرنے کا طریقہ ہوتے ہیں۔ حکومت، اپوزیشن اور صوبائی قیادت اگر اپنے اپنے مؤقف پر اصرار کرتے ہوئے رابطے کے دروازے بند کر دیں تو بداعتمادی بڑھ سکتی ہے اور انتظامی فیصلوں کے اثرات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس سنجیدہ مذاکرات سے مشترکہ نکات تلاش کرنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ایسے حل تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے جسے زیادہ وسیع عوامی قبولیت حاصل ہو۔
سروے میں احتجاج کے حوالے سے سامنے آنے والا رجحان بھی قابلِ غور ہے۔ ملک بھر میں 68 فیصد پاکستانیوں نے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا، جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 72 فیصد بتائی گئی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ عوام اپنے سیاسی یا آئینی مؤقف سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ احتجاج میں شرکت یا عدم شرکت کے پیچھے متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ذاتی مصروفیات، معاشی مشکلات، سلامتی کے خدشات یا سیاسی طریقۂ کار سے اختلاف شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ اعدادوشمار اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں شہری احتجاج کے بجائے دیگر راستوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی رجحانات سمجھتے ہوئے پُرامن سیاسی سرگرمیوں، مذاکرات اور آئینی طریقوں کو اہمیت دینی چاہیے۔خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سروے کے نتائج بھی صورت حال کا ایک مختلف پہلو پیش کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق صوبے کے 52 فیصد شہری صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 34 فیصد نے اسے خراب قرار دیا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے بارے میں عوامی رائے یکساں نہیں، بلکہ ایک قابلِ ذکر حصہ اس کی کارکردگی سے مطمئن اور دوسرا حصہ غیر مطمئن ہے۔ تاہم مجموعی اطمینان کو ہر حکومتی پالیسی کی غیر مشروط حمایت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح کارکردگی سے عدم اطمینان کا مطلب بھی لازماً ایمرجنسی کی حمایت نہیں ہوتا۔ مختلف سوالات پر شہریوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے اور ان نتائج کی تشریح کرتے وقت اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔\
سروے میں اکثریت کی جانب سے سکیورٹی صورت حال بہتر ہونے کی توقع بھی سامنے آئی ہے، لیکن عوامی توقعات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ امن و امان کی بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی، قانون کی یکساں عمل داری، عوام کا اعتماد اور سیاسی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر غیر معمولی اقدامات کیے جائیں تو ان کی افادیت کا جائزہ واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر اس مقصد کے حصول میں آئینی حقوق، سیاسی آزادیوں اور قانونی نگرانی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر عوامی رائے کی تقسیم حکومت اور سیاسی قیادت کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے: کسی بھی بڑے فیصلے کو صرف حمایت یا مخالفت کے اعدادوشمار کی بنیاد پر درست یا غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئینی جواز، زمینی حقائق، عوامی تحفظ اور جمہوری اصول سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ جب تقریباً 80 فیصد پاکستانی مذاکرات کے حق میں ہوں تو سیاسی قیادت کو اس رجحان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اختلافات کا پائیدار حل طاقت کے مظاہرے یا مسلسل سیاسی محاذ آرائی میں نہیں، بلکہ آئین کی پابندی، شفاف فیصلوں، مؤثر حکمرانی اور سنجیدہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کو اسی راستے کی ضرورت ہے جو امن کو مضبوط کرے، شہریوں کا اعتماد بحال کرے اور سیاسی اختلاف کو قومی استحکام کے لیے خطرہ بننے سے روکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں