ملتان(سٹاف رپورٹر) خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (KFUEIT) رحیم یار خان میں ستمبر 2023 میں ہونے والی جونیئر کلرک کی بھرتیوں میں میرٹ کی سنگین پامالی اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے جس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ متاثرہ امیدوار شعیب رحمان جو تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ کا رہائشی ہے اور 29 نومبر 2022 سے 5 جولائی 2025 تک فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی میں بطور ڈیلی ویجر ہیلپر خدمات سرانجام دے چکاہے، نے انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سلمان طاہر، رجسٹرار ڈاکٹر ساغر اور ممبر ریکروٹمنٹ کمیٹی شازیہ عندلیب نے ذاتی مفادات کے تحت کے میرٹ کا قتل کیا اور سیٹ فروشی کی۔ دستاویزی ثبوتوں اور میرٹ لسٹ کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ میں بری طرح فیل ہونے والے امیدواروں، طلحہ اجمل جن کی ایکوریسی محض 18 فیصد تھی اور سعدیہ جاوید جن کی ایکوریسی صرف 32 فیصد تھی کو ریگولر بنیاد پر جونیئر کلرک بھرتی کر لیا گیا جبکہ میرٹ پر پورا اترنے والے اہل امیدواروں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ریکارڈ میں جعل سازی کی انتہا یہاں تک دیکھی گئی کہ ایک اور امیدوار عامر ولد محمد فیض جس کی ریکارڈ میں گراس سپیڈ محض 10 اور ایکوریسی 79 فیصد درج ہے جس کی بنا پر نیٹ سپیڈ 10 سے بھی کم بنتی ہے، اسے غیر قانونی طور پر ٹمپرنگ کے ذریعے 30 نیٹ سپیڈ دکھا کر انٹرویو میں بلایا گیا اور فائنل میرٹ لسٹ میں دسویں نمبر پر رکھا گیا جبکہ شعیب رحمان کو تمام تر قابلیت اور ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود جان بوجھ کر بارہویں نمبر پر دھکیل دیا گیا۔انصاف کے حصول کے لیے جب متاثرہ امیدوار نے صوبائی محتسب راولپنڈی کے دفتر میں رجوع کیا تو وہاں ایڈوائزر احسان طفیل نے مبینہ طور پر انتہائی متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے وکلا کی آمد پر پابندی کا عذر تراشا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے سوال پر برہم ہو گئے۔ ایڈوائزر نے انصاف دینے کے بجائے یہ حیران کن جملہ کسا کہ چونکہ ہاؤسنگ اتھارٹی نے ہمیں پلاٹ نہیں دیا اس لیے ہم تمہارے حق میں فیصلہ نہیں دیں گےجس کے بعد 6 مارچ 2024 کو حقائق کے برعکس اور فیل امیدواروں کی پشت پناہی پر مبنی فیصلہ سنا دیا گیا اور متاثرہ امیدوار کے جواب الجواب کو ریکارڈ کا حصہ تک نہیں بنایا گیا۔ اس کے بعد گورنر ہاؤس پنجاب میں دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل کو بھی متعلقہ افسران نے متاثرہ نوجوان کو سنے بغیر اور جعلی بھرتی کے ٹھوس ثبوت دیکھے بغیر ہی مسترد کر دیا اور فیصلہ بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا۔متاثرہ شعیب رحمان نےوزیراعلیٰ مریم نواز شریف سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ کی دھجیاں اڑانے والے گروہ اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے والے افسران کے خلاف فوری طور پر تحقیقات کی جائیں اور انہیں ان کا قانونی حق دلایا جائے۔







