ملتان ( سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان کی سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی ریٹائرمنٹ، سروس بک اور مبینہ طور پر تین مختلف تاریخِ پیدائشوں اور روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سروس بک میں درج 15 نومبر 1966 کے مطابق ریٹائرمنٹ 14 نومبر 2026 کو ہونے کی بابت ریٹائرمنٹ نوٹیفیکیشن جاری نہ ہو سکا۔ خواتین یونیورسٹی ملتان کے رولز کے مطابق یہ نوٹیفکیشن ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے جاری کیا جاتا ہے۔ مگر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنا یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر متعلقہ افسر نے ان کو لکھ کر دے دیا تھا کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی کاموں میں مزید ساتھ نہیں دے سکتے اور انہوں نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ کام سے انکار کر دیا تھا جس پر ان کو متی تل کیمپس ٹرانسفر کر دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کی سروس بک میں پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی تاریخِ پیدائش 15 نومبر 1966 درج ہے۔ سروس بک نہ صرف سرکاری ملازم کا بنیادی اور مستند ریکارڈ سمجھی جاتی ہے۔ روزنامہ قوم نے اپنے ذرائع سے جو سروس بک کی کاپی حاصل کی اس میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا نام، والد کا نام، شہریت، مذہب، مستقل پتہ، قومی شناختی کارڈ نمبر، دستخط اور دائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشانات موجود ہیں جیسی نوعیت کی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ سروس بک پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دستخط اور اس وقت کی متعلقہ مجاز اتھارٹی کے دستخط بھی موجود ہیں۔ سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق ایک مرتبہ سروس بک میں درج ہونے والی تاریخِ پیدائش کو بعد ازاں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں یونیورسٹی کے اندر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر سروس بک میں 15 نومبر 1966 ہی درج ہے تو پھر ریٹائرمنٹ کے معاملے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سابق پرو وائس چانسلر نے اپنے دورِ ملازمت میں متعدد مرتبہ متعلقہ انتظامی افسر کو تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم بعض ملازمین نے مبینہ طور پر ایسے غیر قانونی اقدامات میں تعاون سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اسی پس منظر میں بعض انتظامی تبادلوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں جنہوں نے مزید سوالات کو جنم دیا۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے اندر یہ بحث بھی جاری ہے کہ ریٹائرمنٹ کے قواعد و ضوابط کا اطلاق تمام افسران اور اساتذہ پر یکساں ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں دیگر افسران اور اساتذہ کو ان کی سروس بک کے مطابق ریٹائر کیا گیا تو پھر اسی اصول کا اطلاق ہر فرد پر بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اب تمام نظریں موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول پر مرکوز ہیں۔ یونیورسٹی کمیونٹی یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ آیا وائس چانسلر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول سرکاری ریکارڈ اور سروس بک کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے یا نہیں۔ شفافیت کے حامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے پر واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار کرے تاکہ ادارے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا جا سکے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ریکارڈ میں درج تاریخِ پیدائش ہی حتمی اور قانونی حیثیت رکھتی ہے تو پھر متعلقہ قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونا چاہیے۔جبکہ اس معاملے میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے تعینات کردہ افسران عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار اور ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی حمایت میں سروس ریکارڈ میں غیر قانونی تبدیلیوں کے حامی سمجھے جا رہے ہیں۔







