خان پور (نمائندہ خصوصی،نمائندہ قوم) پسند کی شادی کرنے والی ایک خاتون کو ڈی ایس پی آفس خان پور کے باہر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش اور لیڈی کانسٹیبل پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اس کے والد، بھائی، کزن اور دیگر رشتہ داروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسے زبردستی ساتھ لے جانے اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق ڈی ایس پی آفس کے باہر پیش آنے والے واقعے کے دوران خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی۔ ویڈیو میں ایک لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ بھی ہاتھا پائی اور مبینہ تشدد کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون مزاحمت کر رہی ہے جبکہ متعدد افراد اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کے وقار اور قانون کی بالادستی کے خلاف قرار دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر درست ہیں تو ایک خاتون کو سرعام گھسیٹنا، تشدد کا نشانہ بنانا اور ایک لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ بدسلوکی کرنا سنگین نوعیت کا معاملہ ہے، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔شہری حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رحیم یار خان عرفان علی سموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائیں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔







