خان پور: مسلح افراد کا میپکو آفس پر حملہ، عملے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

خان پور (نمائندہ قوم ) ظاہر پیر تحصیل خان پور میں میپکو کے ٹیسٹ وپیٹر دفتر پر مبینہ طور پر مسلح افراد کے حملے، توڑ پھوڑ، ملازمین پر تشدد اور سرکاری ریکارڈ اٹھا کر لے جانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے درخواست پر متعدد نامزد اور درجنوں نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی ذرائع کے مطابق میپکو حکام کی مدعیت میں درج مقدمے میں عابد لولائی، حاجی شاہد ولد بشیر احمد، جعفر لولائی، مرتضیٰ ولد اختر لولائی، حسنین اور قوم لولائی سے تعلق رکھنے والے 40 سے 50 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دفتر کی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد عابد لولائی اور حاجی شاہد مبینہ طور پر مسلح حالت میں دفتر پہنچے اور مرکزی گیٹ کھولنے کا مطالبہ کیا۔سکیورٹی گارڈ عبد الستار نے انہیں بتایا کہ دفتر کی ٹائمنگ ختم ہو چکی ہے اور افسران موجود نہیں ہیں، جس پر ملزمان نے مبینہ طور پر گالم گلوچ شروع کر دی، گیٹ اور دیوار پھلانگ کر دفتر میں داخل ہوئے اورسکیورٹی گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی دائیں آنکھ پر شدید چوٹ آئی بعد ازاں ملزمان نے مزید 40 سے 50 افراد کو موقع پر بلا لیا، جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے، سوٹیاں، آہنی راڈ جبکہ بعض کے پاس پستول بھی موجود تھے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تمام افراد جتھے کی صورت میں دفتر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود سیکیورٹی گارڈ عبد الستار، میٹر ریڈر علی نواز، میٹر ریڈر ہدایت اللہ اور لائن مین محبوب مصطفیٰ پر حملہ کر دیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اسلحہ لہرا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے ذرائع کے مطابق مبینہ تشدد سے علی نواز میٹر ریڈر کی ایک انگلی ٹوٹ گئی جبکہ اس کے سر پر بھی زخم آئے۔ مزید الزام ہے کہ ملزمان نے علی نواز اور ہدایت اللہ کے موبائل فون توڑ دیئے، ہدایت اللہ کی جیب سے گرنے والی 25 ہزار روپے کی رقم اٹھا لی، جبکہ علی نواز کا لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے گئے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حملہ آور دفتر سے بعض سرکاری ریکارڈ، الیکٹرک فائلیں اور دیگر دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے میپکو حکام نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان نے مسلح ہو کر سرکاری دفتر میں داخل ہو کر خوف و ہراس پھیلایا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، ملازمین کو زخمی کیا اور سرکاری امور میں مداخلت کی، لہٰذا ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ نامزد اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں