ملتان( روزنامہ قوم انویسٹی گیشن سیل )خلیجی ممالک میں بھیک مانگنے کے لیے بھیجنے والے دنیا پور کے سرکاری اداروں کے سرگرم اور جانے پہچانے ٹاؤٹ سلمان موٹا نے ایک مرتبہ پھر منتھلی نہ دینے پر جہانیاں میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج ڈیلر اور گولڈ کے علاوہ کمرشل پراپرٹی کا بزنس کرنے والے سچی ہٹی نامی دکان کے مالک حاجی سلیم طارق پر پانچ سال کے عرصے میں ایف آئی اے کو مخبری کےذریعے چھٹا چھاپہ مروا دیا۔ 2020 سے نہ تو ایف آئی اے کے چھاپے رکے اور نہ ہی حاجی سلیم طارق کا کرنسی ایکسچینج اور گولڈ کا کاروبار بند ہو سکا۔ ہر چھاپے کا نتیجہ سزا کےبجائے مبینہ طور پر بھاری ڈیل اور حقیقی ملزمان کے بجائے دکان کے ملازمین کے خلاف کاغذی کارروائی کے ذریعے سہولت کاری پر مبنی مقدمے پر ختم ہوا۔ مذکورہ سچی ہٹی پر چھاپوں کا یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہے جب سلمان موٹا کے بھائی کی شادی حاجی سلیم طارق کی بیٹی سے ہوئی کیونکہ حاجی سلیم طارق کی بیٹی کا پہلا خاوند اچھی شہرت کا حامل نہ تھا جس کی وجہ سے مجبورا ًطلاق لینا پڑی اور سلمان موٹے کے بھائی کے ساتھ اس بچی کی شادی ہو گئی تو سلمان موٹا اور اس کا بھائی ملتان کے علاوہ دنیا پور میں سچی انٹرنیشنل ٹریولنگ ایجنسی کی آڑ میں خلیجی ممالک میں فقیروں کو بھیجنے کا دھندا کرنے لگے اور انہیں ایف ائی اے کی مکمل سرپرستی حاصل رہی۔ ابتدا ہی میں دونوں بھائیوں کا آپس میں اختلاف ہوا تو انہوں نے اپنا کاروبار علیحدہ علیحدہ کر لیا۔ بوسن روڈ ملتان والی برانچ کو سلمان موٹے کے بھائی اور اس کی دوسری اہلیہ جو کہ حاجی سلیم طارق کی بیٹی ہے، نے سنبھال لیا اور اس اختلاف کی وجہ سے غیر قانونی ٹریولنگ ایجنسی کا کام چھوڑ کر کسی حد تک قانونی کاروبار شروع کر دیا اور انہیں حاجی سلیم طارق نے مالی اعتبار سے سپورٹ کیا جبکہ سلمان موٹا نے دنیا پور، گرد و نواح اور ملتان میں فقیروں کو خلیجی ریاستوں میں بھجوانے کا دھندا ایف آئی اے کے نچلے عملے کی سرپرستی میں سنبھال لیا۔ اب سلمان موٹا نے حاجی سلیم طارق سے ایف آئی اے و دیگر اداروں کے نام پر 5 سے 7 لاکھ روپے مہینہ رشوت لینا شروع کر دی اور اس رشوت کے بارے میں بہت عرصہ بعد ایف آئی اے کے ماضی میں ملتان میں تعینات ایک ذمہ دار آفسر کو جب پتہ چلا تو کچھ عرصے کے لیے یہ دھندا رک گیا اور سلمان موٹے کا ایف آئی اے میں داخلہ بھی بند ہو گیا مگر چند ہی ماہ بعد مذکورہ افسر ملتان سے ٹرانسفر ہو گیا تو سلمان موٹا نے ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں ایک عالی شان گھر کرائے پر لے کر اسے ایف ائی اے کے افسران کی خدمت کے لیے وقف کر دیا جہاں ایف آئی اے ملتان کے زیر انتظام علاقوں کے ہر قسم کے فراڈیوں کو بلا کر سلمان موٹا اور ایک بدنام ٹاؤٹ وکیل کے ذریعے بلیک میل کر کے کروڑوں روپے اکٹھے کرنا شروع کر دیے اور چند ماہ بعد حیران کن طور پر ایف آئی اے کے بعض اہل کار بھی مذکورہ گھر کے میں آنے جانے اور قیام و طعام کرنے لگے جس کی موبائل لوکیشن ملتان کے ایک ذمہ دار شہری نے انتہائی تفصیل کے ساتھ حاصل کر رکھی ہے کہ کس دن، کس رات اور کس وقت سے کس وقت تک کون سے افسر کا موبائل مذکورہ رائیل آرچرڈ کی کوٹھی میں آن رہا۔ ذرائع کے مطابق پانچ سال کے عرصے میں جہانیاں کی مذکورہ سچی ہٹی پر یہ چھٹا چھاپہ ہے اور ایف آئی اے کے چھاپے بھی مسلسل پڑ رہے ہیں جبکہ کاروبار بھی کھلے عام تسلسل سے جاری ہے اور ہر چھاپہ اس وقت پڑتا ہے جب منتھلی بروقت اور طے شدہ مقدار کے مطابق سلمان موٹے کے پاس نہیں پہنچتی۔ جہانیاں سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے اس ڈیل کی تمام تر تفصیلات روزنامہ قوم کو فراہم کر دی ہیں اور گزشتہ سے پیوستہ روز بھی ایف آئی اے کی ٹیم نے جو چھاپہ مارا اور ایک ہی وقت میں حاجی سلیم طارق کے بھائی سعید اللہ جیولرز کی دکان پر بھی ریڈ ہوا اور اسی وقت حاجی سلیم طارق کی دکان پر پر ریڈ ہوا اور وہاں سے حاجی سلیم طارق کے بیٹوں اور ملازمین کو گرفتار کرکے تھانہ جہانیاں لے جایا گیا مگر اس دوران ایک سیاسی شخصیت وہاں پہنچ گئی اور تھانہ جہانیاں میں ایس ایچ او کے کمرے کے عقبی جانب واقع ایک کمرے میں ایف آئی اے اور سچی ہٹی کے مالکان کے علاوہ سعید اللہ جیولرز کے ساتھ تمام تر معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے جس پر حاجی سلیم طارق، ان کے بیٹوں اور سعید اللہ جیولرز کے ملازمین کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی اور ایف آئی آر میں کارروائی کے لیے عطا اللہ نامی ایک ملازم کے علاوہ دو اور ملازمین کو نامزد کرکے کھاتہ پورا کر لیا گیا۔ حیران کن طور پر جب ایف آئی اے کی ٹیم نے دونوں دکان پر ریڈ کیا تو شہر بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے اسے کھلی دھونس اور دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اپنی دکانیں بند کروا کر ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم کو گھیرے میں لے لیا اور سخت نعرے بازی کی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ حاجی سلیم طارق شدید بیمار ہے اور سہارے کے بغیر چل بھی نہیں سکتا اس لیے گزشتہ کئی ماہ سے وہ دکان پر بھی نہیں بیٹھتا اور اس کے پانچ بیٹے اور ملازمین یہ کاروبار چلا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم اور سچی ہٹی کے مالکان کے درمیان ڈیل کروانے میں اسی شہر جہانیاں کے ایک سابق مسلم لیگی رکن اسمبلی نے مرکزی کردار ادا کیا اور اس ڈیل کو حتمی شکل دے کر حاجی سلیم طارق کے تمام بیٹوں کو گھر بھجوا دیا اور ان کے نامزد کردہ تین ملازمین عطا اللہ ولد سکندر طارق شہزاد ولد امیر خان اور اسد اقبال ولد عبید اختر کو ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ موقع سے تقریبا 45 لاکھ روپیہ ایک دکان سے اور 15 لاکھ روپیہ دوسری دکان سے قبضہ میں لیا گیا ہے مگر معاملات کے طے ہونے کے بعد کچھ رقم واپس کر دی گئی اور صرف پانچ رات 31 ہزار روپیہ کی برامدگی ڈالی گئی۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ پانچواں یا چھٹا چھاپہ ہے مگر ہر چھاپے کا نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے اور کاروبار بھی جاری رہتا ہے جبکہ دوسری طرف ایف آئی اے کی کاغذی کارروائیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ دن رات کرنسی ایکسچینج کا غیر قانونی کاروبار بھی جاری رہتا ہے اور خلیجی ممالک سے انے والے افراد سے سونا اور دیگر سامان کی خریداری کا کاروبار بھی چلتا ہی رہتا ہے۔ سلمان موٹا کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ دنیا پور کا ایک انتہائی نچلے درجے کا شہری تھا مگر ماضی میں ملتان میں تعینات ایک کاریگر افسر کی خصوصی خدمات کی بل پر اس وقت مذکورہ ٹاؤٹ وکیل اور سلمان موٹا کروڑوں روپے کے مالک ہیں اور انہوں نے شہر کے پوش علاقوں میں جائیدادیں اور کرائے پر فرنیشڈ گھر لے رکھے ہیں جہاں افسران کے قیام و تمام اور تمام تر سہولیات کا فائیو سٹار ہوٹلوں جیسا انتظام ہر وقت موجود رہتا ہے اور وہاں سپیشل باورچی رکھے گئے ہیں جو اعلی قسم کا کھانا تیار کرنے کے ماہر ہیں جبکہ مذکورہ باورچی کے ہاتھ کی تلی ہوئی مچھلی تو بہت ہی زیادہ پسند کی جاتی ہے جو بعض اوقات پیک کرکے دیگر افسران کو بھی بھجوائی جاتی ہے۔ روزنامہ قوم کو ایک ذمہ دار شہری نے بتایا کہ سچی ہٹی پر ایف آئی اے کے جتنے بھی چھاپے پڑے ہیں کسی کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور تفتیش میں سب کو کلین چٹ دے دی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا شہر ملتان اور اس کا ایئرپورٹ فقیروں کی خلیجی ممالک میں روانگی اور کسٹم کے کھیپیوں کا سب سے محفوظ ترین ٹھکانہ ہے جہاں سے غیر ملکی شراب موبائل اور ہر طرح کا سامان ملتان شہر اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے بدنام کھپیے جنہیں زبان زد عام میں پھیرے باز کہا جاتا ہے، سارا سال آمد اور روانگی جاری رکھتے ہیں اور ان میں سے دو کا تعلق میڈیا سے بھی ہے کے پاسپورٹ ان کے غیر ملکی دوروں کی مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہیں مگر ان کے خلاف کبھی کاروائی نہیں ہوئی۔ یہاں یہ امر بھی انتہائی توجہ طلب ہے کہ بعض کھپیوں یعنی پھیرے بازوں کو لینے کے لیے سرکاری گاڑیاں بھی ایئرپورٹ کے ایسے حصے تک پہنچ جاتی ہیں جہاں عام گاڑیوں کی رسائی کا تصور بھی نہیں کیا جاتا اور بعض پھیرے باز انہی گاڑیوں پر بغیر کسی چیکنگ کے اپنے تمام تر ’’سامان‘‘سمیت پروٹوکول کے ساتھ ایئرپورٹ کی حدود سے باہر آ جاتے ہیں۔







