ملتان (وقائع نگار)جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید قلت سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جنوبی پنجاب کے سرکاری ہسپتال کنسلٹنٹس، سینئر رجسٹرارز اور میڈیکل آفیسرز کی شدید کمی کا شکار ہیںجس کی وجہ سے مریضوں کا تمام تر بوجھ چند دستیاب ڈاکٹروں پر آن پڑا ہے۔ ماہرین صحت اور مریضوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نچلی سطح پر بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنے کے بجائے تجربہ کار ڈاکٹروں کی نامناسب اور جبری تبادلہ جات نے ہسپتالوں کا نظام تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے نشتر ہسپتال ملتان جس میں 1813 بیڈز ہیں اور جو نہ صرف پنجاب بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ سے آنے والے ہزاروں مریضوں کا واحد سہارا ہے کو مالی نظر اندازی کا سامنا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق رواں مالی سال میں پنجاب حکومت نے نشتر ہسپتال کو محض 60.5 کروڑ روپے کی سالانہ گرانٹ جاری کی ہےجو ناکافی ہے۔ ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف 26 کروڑ روپے سے تو نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی بھی نہیں چل سکتی۔نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر راؤ امجد علی نے بتایا کہ ہم روزانہ 7 سے 8 ہزار او پی ڈی مریض دیکھتے ہیں، جبکہ ایمرجنسی میں 1200 سے 1500 کیسز آتے ہیں۔نشتر ہسپتال میں ای این ٹی (کان، ناک اور گلے) کے مریضوں کو معمولی سرجریز کے لیے بھی ایک سال سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ نئے نشتر-II ہسپتال کا آئی سی یو عملے کی کمی کی وجہ سے غیر فعال ہےجس سے مرکزی ہسپتال پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور نے پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں 580 ڈاکٹروں کی تبادلہ جات کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایم اے کے صدر نے کہا کہ سیکرٹری ہیلتھ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد تمام تبادلہ جات مرکزی اور عملی طور پر منجمد کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹر سیاسی اور انتظامی سفارشات پر مجبور ہیں۔پی ایم اے کے مطابق 850 سے زائد ڈاکٹروں کی تبادلے کی درخواستیں زیر التواء ہیں، جنہوں نے اپنی مطلوبہ تین سالہ سروس مکمل کر لی ہے۔ ہیلتھ سیکرٹری نادیہ ثاقب پر الزام ہے کہ انہوں نے اب تک ایک بھی درخواست کا فیصلہ نہیں کیا۔ پی ایم اے نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو ڈاکٹر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔پنجاب کے سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں 44 شعبوں میں ماہر ڈاکٹروں کی تربیت کا سیکنڈ فیلوشپ پروگرام بھی معطل کر دیا گیا ہے، جس سے ماہر ڈاکٹروں کی شدید کمی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بہاولپور کے بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں بھی ادویات کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے مریض مفت ادویات سے محروم ہیں۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر بخاری کے مطابق انہوں نے ادویات کے لیے 1.25 ارب روپے کی درخواست کی تھی، لیکن صرف 53 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ او پی ڈی میں 52 ضروری ادویات، بشمول اینٹی بائیوٹکس، کھانسی کے شربت اور بچوں کی ادویات، غائب ہیں۔واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے حال ہی میں 450 ڈاکٹروں کو لوکم بنیادوں پر بھرتی کیا تھاجن میں صرف 25 کنسلٹنٹس/سینئر رجسٹرارز شامل تھے۔ اس سکیم کے تحت کنسلٹنٹس اور سینئر رجسٹرارز کو آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے لیے 10,000 روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عارضی انتظامات مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ماہرین صحت کا مطالبہ ہے کہ حکومتِ پنجاب کو فوراً اس دوہرے معیار کا خاتمہ کرنا ہوگا اور لاہور کی طرح جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بھی تمام خالی نشستوں پر کنسلٹنٹس اور سینئر رجسٹرارز کی مستقل اور پائیدار تعیناتیاں یقینی بنانی ہوں گی۔ ساتھ ہی زیرِالتواء ڈاکٹروں کے تبادلہ جات کو فوری طور پر جاری کیا جائے اور نشتر ہسپتال سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کا بجٹ بڑھایا جائے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔







