ملتان( کورٹ رپورٹر)نام نہاد کالونی ڈویلپرز نے غریب عوام کے اربوں روپے ہتھیا لیے ۔ اس بابت ڈپٹی کمشنر ملتان ۔ ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کو مروجہ قانون کے مطابق فراڈیوں کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے اور نیب کے ادارے کو ازخود نوٹس لیتے ہوئے سینکڑوں جعلی رہائشی کالونیوں کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے غریب عوام کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس کروانی چاہیے۔ یہ حکم محمد رشید قمر ایڈوائزر وفاقی محتسب ملتان ریجن نےایک شکایت کا فیصلہ کرتے ہوئے سنایا اور ہدایت کی کہ فیصلے کی ایک نقل ڈی سی ملتان۔ ایک نقل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے ملتان اور ایک نقل نیب کے ادارے کے سربراہ کو برائے عمل درامد بجوائی جائے۔ یاد رہے کہ حساس ادارے کے افسر محمد خالد نے وفاقی محتسب ملتان میں ایک درخواست گزاری تھی کہ اس نے 2014 میں شیخ شاہد جمال اور اس کے ساتھی شیخ اسد اور خواجہ شفیق وغیرہ سے ان کی رہائشی کالونی فالکن سٹی فیز ون ملتان میں سات مرلے کا رہائشی پلاٹ بلعوض 12 لاکھ روپے میں خرید کیا تھا اس کی ساری رقم ادا کر چکا ہے لیکن کالونی کے مالکان نے نہ تو پلاٹ اس کے نام منتقل کروایا اور نہ ہی اس کی رقم واپس کر رہے ہیں اور بعد ازاں پتہ جوئی کرنے پر معلوم ہوا کہ فالکن سٹی فیز ون نہ تو منظور شدہ کالونی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کالونی کے لیے کوئی اراضی ہے بلکہ انہوں نے سڑک کے کنارے کالونی کے نام کا گیٹ تعمیر کر کے فالکل سٹی کا بورڈ لگا کر غریب عوام سے رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کے بہانے لاکھوں روپے فراڈ کر لیے ہیں جن میں وہ بھی شامل ہے جس پر ایڈوائزر صاحب نے الزام علیحان کو طلب کیا فریقین کو سماعت کرنے کے بعد قرار دیا کہ بادی النظر میں فالکن سٹی فیز ون نہ تو منظور شدہ کالونی ہے اور نہ ہی مالکان کے پاس کوئی اراضی ہے ۔ البتہ چونکہ الزام علہان نے سائل کے ساتھ مالیاتی فراڈ کیا ہے لہٰذا سائل کو الزام علیہان کے خلاف متعلقہ تھانے میں پرچہ درج کروانا چاہیے۔ بعد ازاں ایڈوائزر نے اس فیصلے کی ایک ایک نقل ڈپٹی کمشنرملتان، ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے ملتان اور نیب کے ادارے کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے تمام جعلی اور فرضی رہائشی کالونیوں کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے غریب عوام کے ساتھ فراڈ کی گئی رقم واپس کروائے اور ڈی سی او ملتان کو خاص طور پر ہدایت کی کہ ملتان میں بنائی گئی سینکڑوں کالونیوں کی تبدیلی نوعیت( convertion) فیس یعنی اراضی کی نوعیت تبدیل کرنے کی فیس تمام نام نہاد ڈویلپرز سے وصول کر کر قومی خزانے میں جمع کرائے بصورت دیگر وہ خود بھی عیانت جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔







