اسلام آباد: وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ان پر قیمتیں بار بار تبدیل کرنے پر تنقید کی جاتی ہے، حالانکہ وہ صرف عالمی نرخوں کے مطابق حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ تقریباً 20 سال بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔
وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمت میں اضافہ کیے بغیر، پاور سیکٹر کی طلب میں کمی کے باوجود گردشی قرضے میں اضافہ نہیں ہونے دیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ تنقید کرتے ہیں کہ وہ روزانہ تیل کی قیمتیں تبدیل کرتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فیول کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں اور وزارت صرف اسی حساب سے عملدرآمد کرتی ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق اقدامات کررہی ہے۔ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمت میں عوام کو ریلیف دیا گیا، جبکہ حکومتی کوششوں کے نتیجے میں ریفائنری نے بھی معاملات پر اتفاق کیا جس کے بعد ڈیزل کے نرخ کم کیے گئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن کے حوالے سے بھی جلد معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔







