ملتان (لیڈی رپورٹر) کہتے ہیں کسی بھی ملک کی قسمت اس کے تعلیمی اداروں میں لکھی جاتی ہے اگر ایسا ہی ہے تو پاکستان کی قسمت گہرے سوالوں میں الجھی ہوئی ہے کیونکہ تعلیمی ادارے دن بدن بڑھ رہے ہیں اور پڑھنے والے گھٹ رہے ہیں۔ دور جدید ہوتا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں میں مایوسی، عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔اس کی کیا وجوہات ہیں آخر ہم کس طرح اپنا تعلیمی نظام بہتر کر سکتے ہیں ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لئے پنجاب گروپ آف کالجز کے ڈائریکٹر ایڈمن اسامہ بشیر نے ’’قوم‘‘سے گفتگوکرتے ہوئےکہا کہ ایجوکیشن پہ بات کرنا ہمیشہ خوش آئند ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی ایسی ڈسکشن ہو تو میں ضرور اس کا حصہ بنوں۔ہماری یونیورسٹیز کو طالب علموں سے خالی کہنا مناسب نہیں۔ ہر یونیورسٹی میں بہت سے سٹوڈنٹس تو ہیں ہاں یہ کہنا زیادہ ٹھیک ہو گا کہ کچھ ڈسپلنز میں بچے زیادہ آ رہے ہیں اور باقی ڈسپلنز میں ان کی تعداد خاص کر سوشل سائنسز ،نیچرل سائنسز کے ڈسپلنز میں تعداد خاطرخواہ حد تک کم ہوئی ہے جس کے پیچھے بہت ساری وجوہات ہیں۔ ہماری اکانومی ڈریون نالج نہ ہونا ہے۔ایک وقت میں سٹوڈنٹ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ جو ایجوکیشن میں لے رہا ہوں اس کی اس علاقے میں کیا اہمیت ہے۔ ہماری اکانومی چونکہ نالج ڈریون اکانومی نہیں ہےتو طلبہ کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتے ہیں کہ جب ہم ایجوکیشن لیں گے اور فیلڈ میں آئیں گے تو ہمارے کیریئر آپشنز کیا ہوں گے؟ چاہے وہ بزنس ہو یا جاب۔ اسی وجہ ڈسپلنز میں فرق پڑا۔ ٹیکنالوجی کورسز ہوں یا اے آئی یہاں بھیڑ چال چلتی ہے۔ ایک شعبہ کامیابی سےکام کر رہا ہے تو ہم سب وہی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور کرون بھی کمی کی وجہ بنا۔ میں یہ سمجھتا ہو یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک دیہاڑی پر آپ کسی کو بلا لیں اور اسے کہیں کہ آج کے دن کے لیے آپ ٹیچر بن جاؤ۔ پہلے ہی پاکستان میں کوئی ایسا پیٹرن نہیں ہے جس میں ہم یہ دیکھیں کہ ٹیچر کلاس روم میں جانے سے پہلے مکمل تیاری سے جا رہا ہے یا نہیں۔ ایسا کوئی نظام نہیں ہے ٹیچرز ٹریننگ کا کہ ہمیں پتہ ہو کہ کس کو کلاس روم میں جانا چاہیے اور کس کو نہیں جانا چاہیے یہ تو کنونشنل سسٹم میںں ہوتا تھا کہ ٹیچرز دو چار سال میں ایک سسٹم سے گزر کے اس قابل ہو جاتے تھے کہ وہ ٹیچنگ کر سکیں لیکن جب اس طرح کی پالیسی آ جائے گی کہ چھ یا آٹھ ماہ کے لیے انسان ٹیچر بن سکتا ہے اور اس سے پہلے اور اس کے بعد اس کا ٹیچنگ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا تو میں سمجھتا ہوں بہت سارے مسائل جنم لیں گے کیونکہ ایڈہاکزم کی بنیاد پر اساتذہ کو ریکروٹ کرنا اور پھر اس کے بعد ان کو فارغ کر دینا یہ کوئی حل نہیں اور یہ نقصان پہنچائے گا ۔اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسا استاد رزلٹ نہیں دے سکے گا۔ جب رزلٹ کا ٹائم ہو اس وقت وہ ٹیچر کنٹریکٹ میں نہ ہو یا کنٹریکٹ مکمل ہو گیا ہو۔تو ٹیچر کو کسی قسم کی پرواہ ہی نہیں ہو گی کہ بچوں کو جو پڑھایا ہے وہ سمجھ بھی پائے یا نہیں۔ لیکن سب سے اہم جو نیشن بلڈنگ کا کام ہے رزلٹ تو چلیں ایک سال کا ایک سیشن کا کام ہے نیشن بلڈنگ ایک تسلسل کا نام ہے۔ اس میں کنٹینیوٹی اگر نہیں ہوگی تو مسائل جنم لیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایس ٹی آئی میں جو ٹیچنگ انٹرنی آ رہے ہیں انہوں نے ایکنامیکلی تو شاید گورنمنٹ کی کافی بچت کر دی لیکن مستقبل میں یہ بہت نقصان دہ ثابت ہوں گے یعنی یہ نیم حکیم خطرہ جان والا کام ہے بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ کیونکہ خطرہ کسی ایک انسان کو ہو تو برداشت سکتا ہے مگر یہاں پہ تو پوری قوم شدید قسم کے تعلیمی خطرے میں ہے ایک سوال کے جواب میں کہ ملک کے کئی ٹاپ کوچنگ سینٹر ہیں جہاں ہائی ایسٹ لیول ایجوکیشن ہے اور 100فیصد رزلٹ یہی اساتذہ جب سرکاری ادارے میں پڑھاتے تو نتیجہ غیر تسلی بخش یہ دوہرا معیار کیا ہے، اسامہ بشیر نے کہا کہ بہت اچھا سوال ہے لیکن میں شاید اتنا اوپنلی اس کا جواب نہ دے سکوں جتنا آپ ایکسپیکٹ کرتی ہیں لیکن ڈیفینٹلی جب سسٹم میں کمی ہو اکنالجمنٹ کی تو بہت پرابلم ہوتی ہے ۔جب وہی ٹیچر جو صبح ایک پڑھا رہا ہے بقول آپ کے کسی سرکاری ادارے میں پھر سیکنڈ ٹائم کوچنگ سینٹر میں بہترین پڑھا رہا ہے تو وہاں شاید اکنالجمنٹ اور اکنامک بینیفٹس بہت بہتر ملتے ہوں۔ ویسے میں نہیں سمجھتا کہ ٹیچر دن میں اچھا نہیں پڑھانا چاہے گا اور شام میں پڑھائے گا لیکن اگر ہم ان سے رزلٹس لینا چاہتے ہیں تو آپ اچھا انوائرمنٹ مہیا کریں ان کی سکلز بہتر کریں ان کا سروس سٹرکچر بہتر کریں اور ان کی پروموشنز اور ان کے ریوارڈز دیں جب ٹیچنگ بیس اپڈیٹ کر دیں گے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تعلیم یا اسکے نتائج میں پھر کمی آئے گی دور جدید سے جدید تر ہوتا جا رہا ہے لیکن ہمارے جو نوجوان مایوسی، خود کشیں اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارا نوجوان اتنا پیچھے کیوں جا رہا ہے؟ معا شرے میں ایک عدم برداشت کی تو بہت ساری وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے تحاشہ استعمال اور وہ آئیڈیلز جن کا رئیل لائف سے کوئی تعلق نہیں یہ وجہ ہے پھر معاشرے میں ایک بڑھتا ہوا گیپ۔ یہ جتنی تیزی سے فرق بڑھ رہا ہے اتنی تیزی سے معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہو رہا ہے ۔اس میں تعلیمی نظام اس طرح سے رول پلے کر سکتا ہے کہ ہم سٹوڈنٹس کو سکھائیں کہ ہم نے حقیقت پر مبنی اپنے آئیڈیلز اور ٹارگٹ کیسے سیٹ کرنے ہیں۔ بچوں کو زندگی کے حقیقی چینلجز کا مقابلہ کرنا سکھائیں تعلیمی نظام یہ کام کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم عدم برداشت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کہ ہم نے ایک ہی ہفتے میں تین افسوسناک واقعات دیکھے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اوپر کنسٹرکشن چل رہی ہے نیچے اس قوم کا مستقبل پڑھ رہا ہے کوئی احتیاطی تدابیر نہیں ہوتی کچھ اصول طے ہونے چاہیے اس طرح کی کہ جب کوئی بھی کنسٹرکشن کرے۔ اس پر اوپر تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہہ احتیاطی تدابیر ہونی چاہیے تھی اداروں کو اپنا کام کرنا چاہیے تھا اور یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ کیوں ایسے وقت میں کنسٹرکشن کی اجازت دی گئی جب نیچے بچے ایجوکیشن لے رہے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ جب ہم ایسے حادثات پر تنقید کرتے ہیں تو اس کے دو پہلو ہوتے ہیں ہمیشہ ایک سے زیادہ پہلو ہوتے ہیں میں سمجھتا ہوں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تقریبا دو کروڑ 60 لاکھ بچے آؤٹ آف سکولز ہیں اور اس طرح کی آبادی اور آؤٹ آف سکولز بچے میں پانچ سے 15 سال کی بات کر رہا ہوں۔ ایجوکیشن میں یہ نمبر اس سے بھی زیادہ ہوگا یونیورسٹی یا اس سے آگے کی تعلیم کو شامل کریں تو ہمارے دو کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اگر سکولوں سے باہر ہیں تو جتنی بھی چھوٹی موٹی کوششیں ہو رہی ہیں جس جگہ پر بھی ایجوکیشن پھیلانے کے لیے ہمیں ان کو سپورٹ کرنا چاہیے لیکن اس پہ کوئی دو رائے نہیں ہے مگر حفاظتی تدابیر کو ساتھ لے کے چلنا چاہیے اور اس میں گورنمنٹل ایجنسیز کو بھی اپنا رول پلے کرنا چاہیے دونوں طرح سے ایک تو یہ کہ وہ مضبوط کریں اداروں کو ۔ہم ہر دفعہ چیک کرنے لگ جاتے ہیں اور ہر دفعہ پابندی لگانے لگ جاتے ہیں جب وہ پابندی لگائیں گے تو اس آؤٹ آف سکول پاپولیشن بڑھے گی مزید مشکل بڑھے گی۔ سپانسرشپ ہونی چاہیے۔ اس وقت سب سے بڑا دشمن یا چیلنج اگر میں دیکھوںسکول ایجوکیشن میں ،والدین کو سمجھانا کہ ہمیں بچوں کو کن لائنز پر لے کے چلنا چاہیے اس وقت بہت بڑا چیلنج پاکستان کی ایجوکیشن میں۔ پیرنٹنگ بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہمارے پیرنٹس بہت زیادہ فوکس صرف امتحان کے نتائج پر کرتے ہیں۔ رزلٹ تو ایجوکیشن کا صرف ایک پارٹ ہے ایجوکیشن کو اگر ہم مکمل طور پر دیکھیں تو وہ آپ کی پوری پرسنلٹی گرومنگ کے ساتھ زندگی جینا سکھانے کے طریقے ہیں۔ آپ کی سافٹ سکلز بھی ہیں کتابیں ہیں وہ کس نالج کی ہیں اور انٹر پرسنل سکلز ہیں یہ اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ والدین کو سمجھائیں جب بھی وہ کسی تعلیمی ادارے کا انتخاب کریں توایسے ادارے کا انتخاب کریں جہاں بچے کی پرسنلٹی کے تمام پہلوؤں پر کام ہو رہا ہے تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ہمیں والدین کو سمجھانے میں تھوڑا ٹائم لگے گاحکومت کو چاہیے کہ پالیسی جب بنائیں تو مستقل بنیادوں پر بنائیں تاکہ اگلے سالوں میں وہ تبدیل نہ ہوں۔







