بی زیڈ یو اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری بہاولپور میں متضاد فیصلے، خزانچی کے اضافی چارج پر چانسلر اختیارات چیلنج

ملتان(سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی دو سرکاری جامعات میں خزانچی (Treasurer) کے عہدے پر اضافی چارج دینے کے معاملے نے یونیورسٹی گورننس، قانونی اختیار اور قواعد و ضوابط کی عملداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایک جانب بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں خزانچی کا اضافی چارج براہ راست گورنر پنجاب و چانسلر پنجاب نے اپنے قانونی اختیارات کے تحت دیاجبکہ دوسری جانب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور میں یہی اختیار وائس چانسلر نے استعمال کرتے ہوئے ایک استاد کو خزانچی کے دفتر کا اضافی چارج سونپ دیا۔ اگر دونوں جامعات کے متعلقہ قوانین میں خزانچی کی تقرری کا اختیار صرف چانسلر کو حاصل ہے تو پھر ایک جامعہ میں قانون کی مکمل پاسداری اور دوسری میں اس سے ہٹ کر اقدام کس بنیاد پر کیا گیا؟ 18 جون 2026 کو پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر پنجاب و چانسلر نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایکٹ 1975 کی دفعہ 18 اور دفعہ 11(8) کے تحت ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے خزانچی ندیم مشتاق کو بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے خزانچی کا اضافی چارج چار ماہ کے لیے تفویض کیا۔ ساتھ ہی وائس چانسلر بی زیڈ یو کو سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ خزانچی کی مستقل تعیناتی کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ چانسلر نے نہ صرف قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا بلکہ اضافی چارج بھی ایک تجربہ کار اور باقاعدہ تعینات خزانچی کو دیا جسے انتظامی دانشمندی اور قواعد کی روح کے مطابق اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کے رجسٹرار آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وائس چانسلر نے CUVAS ایکٹ 2018 کی دفعہ 16 کے تحت اپنے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین جو ایک تدریسی عہدے پر فائز ہیں کو خزانچی کے دفتر کا اضافی چارج ایک سال کے لیے سونپ دیا۔ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ CUVAS ایکٹ 2018 کی دفعہ 19 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ خزانچی یونیورسٹی کا کل وقتی افسر ہوگا اور اس کی تقرری چانسلر کرے گا۔ جب مستقل تقرری کا اختیار چانسلر کے پاس ہے تو کیا اضافی چارج یا قائم مقام انتظام بھی اسی اتھارٹی کی منظوری سے نہیں ہونا چاہیے؟ قانونی ماہرین کے مطابق عمومی اصول یہی ہے کہ جس اتھارٹی کو تقرری کا اختیار حاصل ہو، عموماً قائم مقام یا اضافی انتظام بھی اسی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ جہاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں سات سال سے تعینات خزانچی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے صرف چار ماہ کے اندر مستقل تقرری مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی، وہیں چولستان یونیورسٹی میں ایک تدریسی افسر کو پورے ایک سال کے لیے خزانچی کا اضافی چارج دے دیا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کی روح سے متصادم دکھائی دیتا ہے بلکہ مستقل اسامیوں کو طویل عرصہ عبوری بنیادوں پر چلانے کی روایت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں قانون کی بالادستی کے نام پر براہ راست چانسلر مداخلت کرتے ہیں تو پھر چولستان یونیورسٹی میں اسی نوعیت کے معاملے پر مختلف معیار کیوں اختیار کیا گیا؟ کیا جنوبی پنجاب کی جامعات کے لیے الگ الگ قوانین نافذ ہیں یا پھر قواعد و ضوابط کی تشریح اداروں کی سہولت کے مطابق کی جا رہی ہے؟ یہ معاملہ اب محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہا بلکہ یونیورسٹیوں میں قانون کی حکمرانی، تقرریوں کے اختیار اور گورننس کے یکساں معیار کا امتحان بن چکا ہے۔ تعلیمی و قانونی حلقوں نے گورنر پنجاب و چانسلر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واضح تضاد کا نوٹس لیں اور صوبے بھر کی جامعات کے لیے ایک یکساں اور غیر مبہم پالیسی جاری کریں تاکہ یہ طے ہو سکے کہ خزانچی جیسے اہم قانونی عہدوں پر اضافی چارج دینے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے۔ اگر قانون چانسلر کے لیے ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر قانون کی تشریح مختلف انداز میں کی جانی ہے تو پھر جامعات کو باضابطہ طور پر نئی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے متنازع اور متضاد اقدامات سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں