بی آئی ایس پی فرنچائزی اور ریٹیلرز کی خفیہ میٹنگ، ہر ٹرانزیکشن پر 400 روپے بھتہ عائد

بہاولپور(کرائم رپورٹر)بہاولپور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم میں کھلے عام گھپلے ،فرنچائزی، HBL کنیکٹ بنک اور ریٹیلرز کی مبینہ لوٹ مار سرعام جاری، متعلقہ ادارے خاموش تماشائی، مال کا کمال یا کچھ اور؟ تفصیل کے مطابق بہاولپور میں عرصہ دراز سے مستحق خواتین کی امدادی رقوم سے غیر قانونی کٹوتیوں کا عمل جاری ہے متعلقہ اداروں کی کارکردگی صرف فوٹو سیشن اور ڈرامائی کاروائیوں تک محدود ہے۔ ذرائع کے مطابق بہاولپور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط شروع ہونے سے پہلے فر نچائزی امتیاز اور متحسن کی مقامی ریسٹورنٹ دلاری میں تمام ریٹیلروں کے ساتھ خفیہ میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں فرنچائزیوں نے تمام ریٹیلروں سے BISP کی رقوم میں سے ہر ٹرانزیکشن پر 400 روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امتیاز فرنچائزی اور متحسن کے لگ بھگ 30/30 ریٹیلرز شہر میں کام کر رہے ہیں جو مبینہ طورپر روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 36 لاکھ روپے کمیشن دونوں فرنچائزیوں کو دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے فرنچا ئزیوں نے تمام ریٹیلروں کو یقین دہانی کرائی کہ بہاولپور ایف آئی اے جانے اور ہم جانیں ہمارے ایف آئی اے بہاولپور میں مبینہ معاملات طے پا چکے ہیں آپ لوگوں کے خلاف ایف آئی اے بہاولپور پولیس کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرے گی۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بہاولپور ایف آئی اے میں تعینات چند پرانے اہلکاروں نے اپنے پرائیویٹ ٹائوٹس کے زریعے اس نیٹ ورک سے مبینہ طور پر سب اچھا کر رکھا ہے جسکی وجہ سے یہ سلسلہ سالہا سال سے چلا آ رہا ہے دوسری جانب زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ BISP آفس میں تعینات معمولی درجے کا ملازم بھی اپنے اعلیٰ افسران کے نام پر اس نیٹ ورک سے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کر رہا ہے متاثرہ خواتین کا کہنا ہے ک بار بار شکایات اور نشاند ہی کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ذمہ دار عناصروں کے خلاف کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی امدادی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کا سلسلہ روکاجا سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور شفاف تحقیقات نہ کرائی گئی تو عوام کا فلاحی اداروں پر اعتماد مزید مجروح ہو گا ۔بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں اور مستحق خواتین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈائریکٹر ریجنل BISP بہاولپور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے بہاولپور علی ابڑو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کا فوری نوٹس لیا جائے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں