ملتان (قوم ریسرچ سیل) سی سی ڈی بہاولپور کے عملے کی طرف سے محمد عرفان ولد عبدالباری جو کہ آن لائن بزنس سے وابستہ ہے کو سی سی ڈی اہلکاروں نے اغوا کر کے اے ٹی ایم اور ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کے ذریعے 24 لاکھ روپے کی رقم مختلف اکاؤنٹ میں منتقل کروانے کے معاملے پر پولیس کی طرف سے تھانہ سول لائنز میں مقدمہ نمبر 895/26 درج ہونے کے بعد مدعی سے رابطہ کیا ہے کہ تمہیں تین دن کے اندر اندر تمام رقم واپس کرتے ہیں تم ڈیجیٹل میڈیا پر بیان دو کہ تمہارے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور اپنا مقدمہ واپس لو۔ شدید دباؤ اور مزید مقدمات میں الجھانے کی دھمکی بالآخر کارگر ثابت ہوئی اور محمد عرفان سے ویڈیو بیان حاصل کر لیا گیا ہے اور دوسری طرف یہ 24 لاکھ روپیہ جن جن سی سی ڈی اہل کاروں نے آپس میں تقسیم کیا تھا اب وہ واپس کرنے کے لیے پیسے جمع کر رہے ہیں اور اب تک 10 لاکھ روپیہ جمع ہو چکا ہے۔ روزنامہ قوم کو 15 پر کی گئی کال کی تفصیلات بھی مل گئی ہیں جس کا مکمل متن کچھ اس طرح سے ہے۔
’’پکار 15 بہاولپور،،،
تھانہ سول لائنز،،
سنچنگ،،
تفصیل: کالر بیانی ہے کہ تین اشخاص سی سی ڈی والے بن کر آئے ہیں ۔گن پوائنٹ پر کالر کے اکاؤنٹ سے 25 لاکھ ٹرانسفر کروا کر چلے گئے ہیں،،
جائے وقوعہ:سنگھیڑا پل
کالر کا نام: نامعلوم
کالر کا نمبر: 03180621962,,
کال کا وقت: 08.31.
بتایا گیا ہے کہ بائنانس کے جس اکاؤنٹ پر 7 ہزار ڈالر کی رقم ٹرانسفر کی گئی ہے وہ اکاؤنٹ بھی ایس ایچ او سول لائنز کو فراہم ہو چکا ہے اور اس کی تصدیق بھی کر لی گئی ہے مگر پیٹی بند بھائی اپنے بیٹی بند بھائیوں کی سپورٹ کر رہے ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ محمد عرفان پر شدید دباؤ ہے کہ سی سی ڈی کے حق میں بیان دے۔ بتایا گیا ہے اس تمام تر کارروائی میں ایک ریٹائرڈ اے ایس آئی کے دو بیٹے ثقلین اور حسنین ملوث ہیں جو کہ پولیس کی ملازمت کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن کا بھی کام کرتے ہیں اور اس سے قبل بہاولپور، احمد پور شرقیہ ،رحیم یار خان، خیرپور ٹامیوالی میں آن لائن بزنس کرنے والوں سے اسی قسم کی منظم ڈکیتی کر چکے ہیں۔ تھانہ سول لائنز کے ذرائع نے بتایا کہ سی سی ڈی کے ڈسٹرکٹ بہاولپور کے انچارج شفقت عطا چوہدری نے اپنے ماتحت عملے کو ہدایت کی ہے کہ تین دن کے اندر اندر اس معاملے کو حل کریں بصورت دیگر کارروائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ ان کے یہ بات اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آ چکی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق شفقت عطا چوہدری نے اپنے ذرائع سے اس امر کی تصدیق کر لی ہے کہ سارا وقوعہ سچا ہے اور جو وقت بتایا جا رہا ہے اور جس گاڑی کا ذکر کیا جا رہا ہے اور جن لوگوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے ان کی موبائل اور وائرلیس لوکیشن اسی جگہ کی آرہی ہے جس جگہ کی محمد عرفان نے نشاندہی کی تھی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کے سی سی ڈی بہاولپور کے نچلے درجے کے اہلکار اپنی تمام تر توانائی اس شخص کو ڈھونڈنے پر ضائع کر رہے ہیں جس نے روزنامہ قوم ملتان کو یہ تفصیلات فراہم کیں۔







